
از: سہیل شہریار
امریکہ کے حالیہ وسط مدتی (مڈ ٹرم) انتخابات امریکی سیاست میں ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دور کے اختتام کی شروعات ہیں، جس کاخصوصاً امریکی عوام اور عمومی طور پر دنیا2015 سے سامنا کر رہے ہیں۔
ایک زبردست شکست، ایک عبرتناک ہار، یا شاید ایک تباہی؛ امریکی ووٹرز کی جانب سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی ریپبلکن پارٹی کو وسط مدتی انتخابات میں دی گئی شکست کو بیان کرنے کے لیےایسے گھمبیر الفاظ کی کوئی کمی نہیں ہے۔
انتخابی اعداد وشمار کے مطابق ڈیموکریٹس اب امریکی کانگریس کے دونوں ایوانوں سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان میں واضح اکثریت کر چکے ہیں۔ 100رکنی سینیٹ میںایک تہائی 35نشستوں پر انتخاب میں51کا ہندسہ حاصل کرنے کے لئے انہیں 7نشستیں درکار تھیں ۔ وہ 11نشستیں جیت چکے ہیں ۔جبکہ ریپبلکنز کی اکثریت 44سینیٹرز کے ساتھ اقلیت میں بدل چکی ہے۔ابھی دو نشستوں کا نتیجہ باقی ہے۔ جہاں مقابلہ چند درجن ووٹوں کے فرق پر آگیا ہے۔
اسی طرح ایوان نمائندگان جسے ہاؤس کہا جاتا ہے کی تمام 435نشستوں پر انتخاب لڑا گیا۔ اس میںاب تک 387 نتیجے آچکے ہیں ۔ایوان میں اکثریت کے لئے 218نشستیں درکار ہوتی ہیں ۔اور ڈیموکریٹس 240نشستیں جیت چکے ہیں ۔ دوسری جانب اب تک اپنی 34نشستیں ہارنے کے بعد ریپبلکنز کے پاس 147نشستیں ہیں۔ جبکہ 48نشستوں کا نتیجہ ابھی باقی ہے۔
ریپبلکنز کو ان وسط مدتی انتخابات میں بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔ اور اس کی ساری ذمہ داری صدر ٹرمپ پر ڈالی جا رہی ہے۔ پارٹی کے اندر الزاام تراشیوں کا سلسلہ عروج پر ہے۔اور آئندہ صدارتی امیدوار کی جگہ لینے کے لیے کوششیں شروع ہو چکی ہیں۔ پھر بھی یہ تصور کرنا مشکل ہے کہ کوئی بھی امیدوار ٹرمپ کے ’میک امریکہ گریٹ اگین‘ دھڑے کی حمایت کے بغیر 2028 کی نامزدگی حاصل کر سکے گا۔
ریپبلکن پارٹی کے اندرنائب صدر جے ڈی وینس کو ٹرمپ کے ممکنہ جانشین کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔جبکہ وزیر خارجہ مارکو روبیو بھی اہم امیدوار ہیں۔ مگر یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا ان کے پاس ٹرمپ کا وہ خاص جوہر موجود ہے جس نے پارٹی اور ملک کے اندر ’میگا‘ کے حامیوں کو ان کا انتہائی وفادار بنائے رکھا ہے۔
دوسری جانب ڈیموکریٹس کے لیے، ممکنہ امیدواروں کا میدان پوری طرح کھلا ہے۔اور پارٹی کو عوامی اعتماد پر پورا اترنے کے لئے اگلے دو برس بھرپور کارکردگی دکھانا ہو گی۔خاص طور پر امریکیوں کوزندگی گزارنے کے لئے آسانی فراہم کرنےکو یقینی بنانا ہو گا۔جس میں روز مرہ کے اخراجات، ایندھن کی قیمتیں، صحت اور تعلیم کے اخراجات وغیرہ شامل ہیں۔
ڈیموکریٹس کے ترقی پسند اور وسط رو دھڑے، وسط مدتی انتخابات کے نتائج سے غالباً اپنے اپنے مختلف نتائج اخذ کریں گے۔تاہم ٹیکساس، کنساس، آئیووا اور ساؤتھ کیرولائنا میں سینیٹ کی نشستوں پر ڈیموکریٹس کی جیت یہ ظاہر کرتی ہے کہ پارٹی ریپبلکن اکثریتی ریاستوں ’ریڈ اسٹیٹس‘ میں ممکنہ طور پر صدارتی انتخاب میں بھی کامیابی حاصل کر سکتی ہے۔ اس کے لیے انہیں ایک ایسے معتدل امیدوار کی ضرورت ہوگی جو ’میگا‘ نظریے سے ہٹ کر سوچنے والے ریپبلکنز کو اپنے متوازن اور معقول بیانیے سے اپنی طرف متوجہ کر سکے۔
مشی گن میں سینیٹ کی نشست پر ڈیموکریٹ امیدوار عبدالسید کی کامیابی پارٹی میں ترقی پسندوں کی حدودکے بارے میں ایک انتباہ ہو سکتا ہے۔ ان ترقی پسندوں میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو ڈیموکریٹس پر زور دے رہے ہیں کہ وہ غزہ کی جنگ کے دوران اسرائیل کے طرزِ عمل کے خلاف زیادہ سخت موقف اختیار کریں۔اور ایران کی جنگ پر ٹرم کو کٹہرے میں کھڑا کیا جائے۔اب ڈیموکریٹس کس سمت کا انتخاب کریں کے۔ اس حوالے سے جاری یہ کشمکش اگلے دو برسوں میں امریکی سیاست کے اہم ترین موضوعات میں سے ایک ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب کا ای چالان سسٹم لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج
یہ حقیقت ہے کہ اس نتیجے کے لیے ٹرمپ خود کے سوا کسی اور کو موردِ الزام نہیں ٹھہرا سکتے۔ خاص طور پر اس بات کو دیکھتے ہوئے کہ اس رات ریپبلکن پارٹی کو ملنے والی سینیٹ میں دو بڑی شکستیں ان امیدواروں کی وجہ سے ہوئیں جنہیں خود ٹرمپ نے سینیٹ کے لیے منتخب کیا تھا۔یعنی ٹیکساس میں کین پیکسٹن اور ساؤتھ کیرولائنا میں ڈارلین گراہم۔
ان وسط مدتی انتخابات سےٹرمپ کمزور تو ہوئے ہیں، لیکن اب بھی ان کے پاس کافی طاقت موجود ہے۔واضح طور پریہ انتخابی نتیجہ ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت کی کارکردگی کو سختی سے مسترد کرنے کے مترادف ہے۔ووٹروں نے واضح پیغام دیا ہے کہ وہ ریپبلکن صدر کی جانب سے قیمتیں کم کرنے کے وعدے کو پورا نہ کرنے پر ناراض ہیں۔ انہوں نے خاص طور پر ایران میں جنگ کو آگے بڑھانے اور محصولات (ٹیرف) کا نیا نظام نافذ کرنے پر ٹرمپ کو سزا دی ہے۔
اب بڑا سوال یہ ہے کہ ٹرمپ اس مسترد کیے جانے کے عمل پر کیا ردعمل ظاہر کرتے ہیں۔ وہ تنقید کو خندہ پیشانی سے قبول کرنے یا اپنی غلطیوں کا اعتراف کرنے کے لیے نہیں جانے جاتے۔بہت سے مبصرین کسی بڑے ردعمل کے لیے تیار ہیں۔ انہیں توقع ہے کہ ٹرمپ اپنے اردگرد موجود ان لوگوں پر برس پڑیں گے جنہیں وہ وسط مدتی انتخابات میں ملنے والی شکست کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ ساتھ ہی، وہ اپنے ان ’ایگزیکٹو اختیارات‘ کا مزید وسیع پیمانے پر استعمال کر سکتے ہیں جنہیں وہ پہلے ہی غیر معمولی انداز میں بروئے کار لا چکے ہیں۔وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ کے پاس ابھی کافی وقت باقی ہے کہ وہ ان اختیارات کو استعمال کر سکیں جو ووٹروں نے انہیں گزشتہ انتخابات میں دیے تھے۔ انہوں نے اپنے انتظامی اختیارات کے استعمال کے ارادے کا ایک ابتدائی اشارہ بھی دے دیا ہے؛ انہوں نے ’میگا‘ طرز کی ایک سرخ ٹوپی کی تصویر پوسٹ کی ہے جس پر ’ویٹو‘ لکھا ہوا ہے۔
ادھرڈیموکریٹس اب اپنے ایجنڈے کو حدود کے ساتھ آگے بڑھا سکتے ہیں۔کیونکہ بقیہ دو سالوں کے لیےکانگریس ڈیموکریٹس کے ہاتھ میں ہوگی۔ ڈیموکریٹس نے اشارہ دیاہے کہ وہ قانون سازی کو آگے بڑھانے کے لیے تیزی سے کام کریں گے۔رپورٹس کے مطابق ان کے اہداف میں ریپبلکنز کی طرف سے کٹوتی ہیلتھ انشورنس سبسڈی کو بحال کرنا، ٹرمپ کے ٹیرف کو ختم کرنا ،ایران کے خلاف جنگ کو روکنااور غزہکے معاملات میں بہترینمایاں ہیں۔
یہ بھی توقع ہے کہ ڈیموکریٹس کی زیرقیادت ایوان ان الزامات کی تحقیقات شروع کرے گا کہ ٹرمپ کے اہل خانہ اور دوست ان کی صدارت سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ساتھ ہی مواخذے کی کارروائی ایک یقینی امکان ہے۔ اور اگر ٹرمپ کے خلاف نہیں تو ان کے سیکرٹری جنگ پیٹ ہیگستھ کے خلاف یہ کاروائی یققینی ہے۔ تاہم، ڈیموکریٹس کو اب بھی بلوں پر صدر کے دستخط کی ضرورت ہوگی تاکہ انہیں حقیقت بنایا جاسکے، اور اس کا مطلب وائٹ ہاؤس اور دونوں جماعتوں کے کانگریسی لیڈروں کے درمیان کچھ لو اور کچھ دو پر بات چیت ہوسکتی ہے۔











