اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) پاکستان تحریک انصاف کی قومی اسمبلی اور سینیٹ کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی نے ملک کی سیاسی، آئینی اور معاشی صورتحال سے متعلق اہم قرارداد منظور کرلی، جس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی کی فوری رہائی، خیبر پختونخوا میں مبینہ غیر آئینی اقدامات کے خاتمے اور 8 فروری 2024 کے انتخابی مینڈیٹ کی بحالی کا مطالبہ کیا گیا ۔قرارداد میں تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی نے عمران خان کی قیادت، فیصلوں اور وژن پر غیر متزلزل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جمہوریت، آئین کی بالادستی اور عوام کے حقوق کی جدوجہد میں ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔
قرارداد میں عمران خان کو اہل خانہ، وکلا اور پارٹی نمائندوں سے بلا رکاوٹ ملاقاتوں اور رابطوں کی سہولت فراہم کرنے، ان کے آزادانہ طبی معائنے اور شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں علاج سے متعلق سپریم کورٹ کی ہدایات پر عمل درآمد کا مطالبہ کیا گیا۔ عمران خان کی صحت، عزت و وقار اور قانونی حقوق کے تحفظ پر بھی زور دیا گیا۔تحریک انصاف کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کو صوبائی خودمختاری اور آئین پر حملہ قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی اور فوری خاتمے کا مطالبہ کیا۔قرارداد میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی سربراہی میں منتخب صوبائی حکومت کی بحالی، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، اسپیکر بابر سلیم سواتی اور صوبائی صدر جنید اکبر خان کی فوری رہائی کا مطالبہ بھی کیا گیا۔ پارلیمانی پارٹی نے منتخب حکومت کے اختیارات غیر آئینی اداروں کو منتقل کرنے کی کوششوں اور غیر منتخب مشاورتی کونسل کو مسترد کردیا۔قرارداد میں تحریک انصاف کے رہنماؤں، ارکان پارلیمنٹ، کارکنوں اور ان کے اہل خانہ کے خلاف گرفتاریوں، چھاپوں، مبینہ اغوا اور ہراسانی کی مذمت کی گئی۔ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کو سیاسی انتقام یا منتخب حکومت کے خاتمے کا جواز بنانے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا گیا کہ ایسے اقدامات سے صوبوں میں احساس محرومی بڑھ سکتا ہے اور وفاقی تعلقات متاثر ہوسکتے ہیں۔پارلیمانی پارٹی نے ایم پی او کے تحت گرفتار عمران خان کی بہنوں، شاہ محمود قریشی، ڈاکٹر یاسمین راشد، اعجاز چوہدری اور عمر چیمہ سمیت دیگر سیاسی قیدیوں اور کارکنوں کی رہائی کا مطالبہ کیا۔
قرارداد میں حاجی امتیاز احمد چوہدری، محمد جمال احسن خان، میاں غوث محمد، ثناء اللہ خان مستی خیل اور دیگر رہنماؤں کی حراست یا گمشدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے گرفتار افراد کی رہائی اور لاپتہ ارکان کے مقام اور خیریت سے متعلق معلومات فراہم کرنے پر زور دیا گیا۔ گرفتار ارکان پارلیمنٹ کے لیے اہل خانہ اور وکلا سے ملاقات اور پارلیمانی کارروائی میں شرکت کے حقوق بحال کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی نے 8 فروری 2024 کے انتخابات میں عوامی مینڈیٹ کی بحالی یا ملک بھر میں نئے، آزادانہ اور شفاف انتخابات کرانے کا مطالبہ کیا۔ قرارداد میں 9 مئی 2023 اور 26 نومبر 2024 کے واقعات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات اور 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم واپس لینے پر بھی زور دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: پٹرول سستا، ڈیزل مہنگا ہوگیا
قرارداد میں عدلیہ کی آزادی، آزادی اظہار، پُرامن احتجاج اور قانونی کارروائی کے بنیادی حقوق کی بحالی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ پائیدار سیاسی استحکام اور قومی اتحاد آئین کی حکمرانی اور جمہوری نظام سے ہی ممکن ہیں۔پارلیمانی پارٹی نے دہشت گردی اور تمام دہشت گرد تنظیموں کی دوٹوک مذمت کرتے ہوئے ملک میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال پر تشویش ظاہر کی۔ قرارداد میں پاکستان کے دفاع کے لیے مسلح افواج، پولیس اور عام شہریوں کی قربانیوں کا اعتراف کیا گیا۔پی ٹی آئی نے الزام عائد کیا کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت عمران خان، تحریک انصاف اور ریاستی اداروں کے درمیان دوریاں پیدا کرنے کی کوشش کررہی ہے اور پارٹی کی آئینی و جمہوری جدوجہد کو غلط طور پر ریاست دشمنی کے طور پر پیش کیا جارہا ہے۔قرارداد میں مہنگائی، بے روزگاری اور عوام پر بڑھتے معاشی بوجھ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے معاشی سرگرمیوں کی بحالی اور عوام کو حقیقی ریلیف فراہم کرنے کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا گیا۔
مشترکہ پارلیمانی پارٹی نے عمران خان کی مقرر کردہ پارلیمانی اور پارٹی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔ قرارداد میں بیرسٹر گوہر علی خان، سلمان اکرم راجہ، محمود خان اچکزئی، علامہ راجہ ناصر عباس، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور صوبائی صدر جنید اکبر خان سمیت دیگر مقرر کردہ عہدیداروں کی قیادت پر اعتماد کا اعادہ کیا گیا۔قرارداد کے مطابق عمران خان کی جانب سے بااختیار بنائی گئی پولیٹیکل کمیٹی، کور کمیٹی اور پارٹی تنظیموں کے اختیارات تسلیم کیے جائیں گے، جبکہ پارلیمانی پارٹیوں سے باقاعدہ مشاورت اور ان کی آرا کو مناسب اہمیت دی جائے گی۔پارلیمانی پارٹی نے واضح کیا کہ حتمی فیصلوں کا اختیار عمران خان اور ان کی بااختیار کردہ قیادت کے پاس رہے گا۔ پارٹی نظم و ضبط برقرار رکھنے، اندرونی اختلافات کو عوامی بیانات کے بجائے پارٹی فورمز پر حل کرنے اور پارلیمانی، سیاسی و قانونی محاذوں پر مربوط جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا بھی اظہار کیا گیا۔












