واشنگٹن ( پاک ترک نیوز) امریکی دفاعی کمپنی بوئنگ نے بحریہ کے لیے چھٹی نسل کا جدید ترین جنگی طیارہ تیار کرنے کا 20 ارب ڈالر سے زائد مالیت کا معاہدہ حاصل کر لیا۔ اس طیارے کو ایف اے اٹھائیس ایکس کا نام دیا گیا ہے، جو مستقبل میں امریکی بحریہ کے موجودہ جنگی طیاروں کی جگہ لے گا۔امریکی محکمہ دفاع کے مطابق، بوئنگ نے اس اہم معاہدے میں حریف کمپنی نارتھروپ گرومین کو شکست دی۔ معاہدے کا ابتدائی مرحلہ طیارے کی تیاری، انجینئرنگ اور پیداواری نظام کی تشکیل پر مشتمل ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چینی لائڈار نظام ایف 35کا 61کلومیٹر دور سے سراغ لگا سکتا ہے
ایف اے اٹھائیس ایکس کو طیارہ بردار بحری جہازوں سے اڑان بھرنے اور ان پر اترنے کے لیے خصوصی طور پر تیار کیا جائے گا۔ عام جنگی طیاروں کے برعکس اسے محدود جگہ سے تیز رفتار اڑان بھرنے اور انتہائی کم رفتار پر محفوظ انداز میں اترنے کی صلاحیت درکار ہوگی۔اس مقصد کے لیے طیارے کے پروں، پرواز کو قابو میں رکھنے والے نظام اور لینڈنگ کے ڈھانچے میں نمایاں تبدیلیاں متوقع ہیں۔ اس کا ڈیزائن ایسے انداز میں تیار کیا جا سکتا ہے کہ طیارے کا چوڑا جسم بھی اضافی قوتِ پرواز پیدا کرنے میں مدد دے۔امریکی کانگریس نے دفاعی بجٹ میں کٹوتیوں کے باوجود اس منصوبے کے لیے اضافی رقم فراہم کی۔ فراہم کردہ رپورٹ کے مطابق، 2025 کے اختتام پر 75 کروڑ ڈالر جبکہ مالی سال 2026 کے لیے مزید ایک ارب 40 کروڑ سے ایک ارب 70 کروڑ ڈالر مختص کیے گئے۔اس مالی معاونت کا مقصد منصوبے کو جاری رکھنا اور چین جیسی بڑی فوجی طاقتوں کے مقابلے کے لیے جدید جنگی صلاحیتوں کو فروغ دینا تھا۔
امریکی فضائیہ کے لیے ایف سینتالیس اور بحریہ کے لیے ایف اے اٹھائیس ایکس، دونوں منصوبوں میں بوئنگ کا کردار اسے جدید جنگی طیاروں کی تیاری میں غیر معمولی اہمیت دے گا۔ اس سے جدید جنگی طیاروں کی تیاری کا انحصار صرف ایک کمپنی، لاک ہیڈ مارٹن، پر نہیں رہے گا۔تاہم بوئنگ کو پہلے ہی اپنے دفاعی منصوبوں میں تاخیر اور مالی نقصانات جیسے مسائل کا سامنا رہا ہے۔ بیک وقت دو انتہائی پیچیدہ جنگی طیاروں کی تیاری کمپنی کی تکنیکی صلاحیتوں اور افرادی قوت کے لیے بڑا امتحان ہوگی۔اس طیارے کو جدید خفیہ پرواز کی ٹیکنالوجی، فضائی دفاع، زمینی اور بحری اہداف پر حملوں اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیاروں کے استعمال کے لیے تیار کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ یہ بغیر پائلٹ طیاروں اور فضا میں ایندھن فراہم کرنے والے جہازوں کے ساتھ مل کر بھی کارروائیاں کر سکے گا۔












