اقوام متحدہ ( پاک ترک نیوز)
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے بھاری اکثریت سے ایک ایسے اعلان کی حمایت میں ووٹ دے دیا جو اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان دو ریاستی حل کی جانب ٹھوس، وقت پر مبنی اور ناقابل واپسی اقدامات کا تعین کرتا ہے۔ یہ فیصلہ نیویارک میں عالمی رہنماؤں کی ایک کانفرنس سے قبل کیا گیا۔ اس اعلان کی حمایت کرنے والی قرارداد کے حق میں 142 ووٹ، اس کے خلاف 10 ووٹ آئے اور 12 ممالک نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔
اس قرارداد نے غزہ میں شہریوں، شہری انفراسٹرکچر، محاصرے اور بھوک کا باعث بننے والے اسرائیلی حملوں کی مذمت کی۔ ساتھ ہی 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملوں کی بھی مذمت کی اور کہا کہ غزہ کی جنگ کو اب ختم ہو جانا چاہیے۔ سات صفحات پر مشتمل یہ اعلان گزشتہ جولائی میں اقوام متحدہ میں ہونے والی ایک بین الاقوامی کانفرنس کا نتیجہ ہے جس کی میزبانی سعودی عرب اور فرانس نے کی تھی۔
دریں اثناجن ممالک نے اس اعلان کے خلاف ووٹ دیا ان میں۔ امریکہ، اسرائیل، ارجنٹائن، ہنگری، پیراگوئے، ناؤرو، مائیکرونیشیا، پلاؤ، پاپوا نیو گنی اور ٹونگا شامل ہیں۔جن ممالک نے ووٹ ڈالنے سے گریز کیا، ان میں چیک جمہوریہ، کیمرون، جمہوریہ کانگو، ایکواڈور، ایتھوپیا، البانیہ، فجی، گوئٹے مالا، ساموا، شمالی مقدونیہ، مالڈووا، اور جنوبی سوڈان شامل ہیں۔
فلسطینی صدر کے نائب حسین الشیخ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ہونے والی ووٹنگ کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے قبضے کے خاتمے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا ہے۔ حسین الشیخ نے کہا ہے کہ دو ریاستی حل اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت میں نیویارک اعلامیہ کی قراردادکی بھاری اکثریت سے منظوری پر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی لائق تحسین ہے۔ یہ فیصلہ بین الاقوامی ارادے کا ہمارے لوگوںکے حقوق کی حمایت کا اظہار کرتا ہے اور قبضے کو ختم کرنے اور ہماری آزاد ریاست کو 1967 کی سرحدوں پر قائم کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
ریاست فلسطین کو تسلیم کرنے کا مسئلہ اقوام متحدہ کی سالانہ جنرل اسمبلی کے سربراہی اجلاس پر چھایا ہوا ہے جبکہ تسلیم کرنے والے ممالک کی فہرست کو 22 ستمبر کو جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر منعقد ہونے والی ایک فرانسیسی- سعودی کانفرنس کے دوران حتمی شکل دی جائے گی۔ انفرادی رہنما بھی 23 سے 29 ستمبر تک منعقد ہونے والے عوامی مباحثے کے اجلاسوں کے دوران جنرل اسمبلی کے پلیٹ فارم سے اپنے فیصلوں کا باضابطہ اعلان کریں گے۔واضح رہے جولائی کے آخر میں فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے اعلان کیا تھا کہ ان کا ملک 9 سے 23 ستمبر تک ہونے والے جنرل اسمبلی کے اجلاسوں کے دوران ریاست فلسطین کو تسلیم کر لے گا۔ اس کے بعد سے 12 سے زیادہ مغربی ملکوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ فرانس کی پیروی کریں گے۔ان اعلان کرنے والے ملکوں میں بیلجیم، مالٹا، برطانیہ، پرتگال، فن لینڈ، لکسمبرگ، کینیڈا اور جرمنی شامل ہیں۔












