اسلام آباد(پاک ترک نیوز ) آٹھ اکتوبر دو ہزار پانچ کو صبح آٹھ بج کر باون منٹ پر آنے والے سات اعشاریہ چھ شدت کے تباہ کن زلزلے کو اکیس برس بیت گئے، مگر اس قیامت خیز سانحے کے زخم آج بھی مکمل طور پر مندمل نہیں ہوسکے۔ زلزلے کا مرکز مظفرآباد کے شمال مشرق میں تھا، جس نے آزاد کشمیر، خیبر پختونخوا کے ہزارہ ڈویژن اور ملحقہ علاقوں میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی۔
زلزلے کے چند ہی لمحوں میں بستیاں ملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہوگئیں، سڑکیں اور پل تباہ ہوگئے، پہاڑوں سے بڑے پیمانے پر تودے گرے اور ہزاروں خاندان اپنے پیاروں، گھروں اور روزگار سے محروم ہوگئے۔ سرکاری و مختلف امدادی اعدادوشمار میں ہلاکتوں کی تعداد مختلف رہی، تاہم عام طور پر تقریباً اسی ہزار اموات کا حوالہ دیا جاتا ہے، جبکہ لاکھوں افراد متاثر اور بے گھر ہوئے۔
بالاکوٹ اس تباہی کا سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں شامل تھا۔ شہر کو شدید نقصان پہنچنے کے بعد اسے خطرناک علاقہ قرار دیا گیا اور متاثرین کی آبادکاری کے لیے بکریال کے مقام پر نیو بالاکوٹ سٹی بنانے کا منصوبہ تیار کیا گیا۔ منصوبے کا مقصد متاثرہ خاندانوں کو محفوظ اور جدید رہائشی سہولتیں فراہم کرنا تھا، مگر اکیس برس بعد بھی یہ منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا۔
صرف نیو بالاکوٹ سٹی ہی نہیں، ہزارہ ڈویژن میں زلزلے سے تباہ ہونے والے تعلیمی اور طبی منصوبوں کی بحالی بھی طویل عرصے تک مکمل نہ ہوسکی۔ دو ہزار تئیس کی ایک رپورٹ کے مطابق ہزارہ میں زلزلے سے تباہ ہونے والی سات ہزار ترپن عمارتوں اور بنیادی ڈھانچے میں سے پانچ ہزار چار سو دس کی تعمیر نو مکمل ہوئی تھی، جبکہ سینکڑوں منصوبے زیر تعمیر اور سیکڑوں پر کام شروع ہی نہیں ہوسکا تھا۔
زلزلے نے ہزارہ ڈویژن میں تقریباً تین ہزار تعلیمی اداروں کو بھی متاثر کیا۔ بالاکوٹ اور گردونواح میں بعض اسکول اور صحت مراکز طویل عرصے تک عارضی عمارتوں یا خیموں میں چلتے رہے۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ قدرتی آفت چند منٹ میں گزر گئی، مگر اس کے بعد شروع ہونے والی بحالی کی جنگ کئی دہائیوں تک جاری رہی۔
سرکاری منصوبوں، عالمی امداد اور اربوں روپے کے اعلانات کے باوجود متاثرہ علاقوں کے لوگوں کے لیے سب سے بڑا سوال یہی رہا کہ بحالی کا عمل کب مکمل ہوگا؟ کئی علاقوں میں سڑکیں، اسکول، اسپتال اور دیگر بنیادی سہولتیں ابھی تک مطلوبہ معیار کے مطابق بحال نہیں ہوئیں۔ اکتوبر دو ہزار چھبیس میں بھی قومی اسمبلی میں متاثرہ علاقوں کے 216 اسکولوں کی نامکمل تعمیر، خراب سڑکوں اور غیر فعال اسپتالوں پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔
اکیس سال بعد بھی آٹھ اکتوبر صرف ایک قدرتی آفت کی یاد نہیں، بلکہ متاثرین کے ان سوالات کی یاد دہانی ہے جو آج بھی جواب کے منتظر ہیں۔ ملبہ تو ہٹا دیا گیا، نئی بستیاں بھی آباد ہوگئیں، لیکن بالاکوٹ کے متاثرین کے لیے نیو بالاکوٹ سٹی کا خواب اور کئی نامکمل منصوبے آج بھی اس سانحے کی ادھوری داستان سناتے ہیں۔












