مسقط : (پاک ترک نیوز)ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات جاری ہیں، تاہم اسی دوران امریکہ کی جانب سے یہ دھمکی بھی دی جا رہی ہے کہ اگر بات چیت ناکام ہوئی تو اس کے پاس کئی آپشنز موجود ہیں۔
ذرائع کے مطابق عمومی تاثر یہ ہے کہ یہ مذاکرات کامیاب نہیں ہوں گے، کیونکہ امریکہ جن شرائط پر اصرار کر رہا ہے، اگر ایران انہیں قبول کر لیتا ہے تو اس کا مطلب مکمل طور پر غیر مسلح ہونا ہوگا۔
ان شرائط کے تحت ایران کو اپنا پورا میزائل پروگرام ختم کرنا پڑے گا، جس میں وہ انٹرکانٹینینٹل بیلسٹک میزائلز اور خرمشہر فائیو تک پہنچ چکا ہے اور ان کے تجربات بھی کر چکا ہے۔
اس کے علاوہ ایران کو افزودہ یورینیم ضائع کرنا ہوگا اور اپنے ایٹمی ری ایکٹرز عالمی ادارہ برائے ایٹمی توانائی کے معائنے کے لیے کھولنے ہوں گے، تاکہ یہ جانچا جا سکے کہ اس کے پاس کیا کچھ باقی رہ گیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ایران جنگ کے لیے تیار ہو جاتا ہے تو ممکن ہے تصادم ٹل جائے، لیکن اگر اس نے سرنڈر کیا تو اس کے لیے عراق جیسی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ بارہا یہ کہتے رہے ہیں کہ وہ مذاکرات چاہتے ہیں، مگر اس کے ساتھ ہی امریکی جنگی طاقت خلیج فارس، بحیرۂ احمر اور آبنائے ہرمز کی جانب بڑھ رہی ہے۔
اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ اصل ہدف مذاکرات کی کامیابی یا ناکامی نہیں بلکہ ایران کو غیر مسلح کرنا ہے، چاہے اس کے لیے کوئی بھی راستہ اختیار کرنا پڑے۔اگر ایران سرنڈر کرتا ہے تو یہ نہ صرف اس کے لیے بلکہ پوری مسلم دنیا کے لیے ایک بڑا دھچکا ہوگا۔












