نئی دہلی : (پاک ترک نیوز)پاکستان کے ساتھ حالیہ فوجی تصادم میں ناکامی کے بعد بھارت نے اپنی دفاعی حکمتِ عملی میں نمایاں تبدیلی کرتے ہوئے دفاعی بجٹ میں غیر معمولی اضافہ کر دیا ہے۔
اتوار کو پیش کیے گئے مالی سال 2026 کے بجٹ میں بھارتی حکومت نے دفاع کیلئے مجموعی طور پر 7 ہزار 850 ارب روپے مختص کیے ہیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 15 فیصد زیادہ ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ مئی 2025 میں پاکستان کے ساتھ ہونے والی مختصر مگر شدید جنگ کے اثرات کا براہِ راست نتیجہ ہے، جس میں بھارت کو آپریشن سندور کے دوران سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
اسی پس منظر میں نئی دہلی اب فوجی تیاری، جدید اسلحے کی خریداری اور دفاعی ڈھانچے کو مضبوط بنانے پر بھرپور توجہ دے رہی ہے۔
بجٹ میں سب سے نمایاں اضافہ دفاعی ترقیاتی اخراجات میں کیا گیا ہے، جو پچھلے سال کے 1 ہزار 800 ارب روپے سے بڑھ کر 2 ہزار 310 ارب روپے تک پہنچ گئے ہیں، یعنی تقریباً 28 فیصد اضافہ۔
اس سے واضح ہوتا ہے کہ بھارتی حکومت درآمدی اسلحے کے ساتھ ساتھ مقامی دفاعی صنعت کو فروغ دینے کی پالیسی پر بھی کام کر رہی ہے۔
بھارتی وزیرِ خزانہ نرملا سیتارمن کے مطابق فوج کی جدید کاری کیلئے 2 ہزار 190 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جو گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 21 فیصد سے زائد اضافہ ہے۔
اس کے علاوہ ایندھن، اسلحہ، مرمت، لاجسٹکس اور فوجی اہلکاروں کی تنخواہوں جیسے روزمرہ اخراجات کیلئے بھی بجٹ میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔فوجی پنشن کا بوجھ بھی بڑھتا جا رہا ہے، جس کیلئے رواں بجٹ میں رقم بڑھا کر 1 ہزار 710 ارب روپے کر دی گئی ہے۔
دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ اضافہ پہلے سے متوقع تھا، کیونکہ آپریشن سندور کے بعد بھارتی عسکری قیادت نے دفاعی بجٹ میں کم از کم 20 فیصد اضافے کی سفارش کی تھی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ گزشتہ سال مئی میں حکومت نے 500 ارب روپے اضافے پر غور شروع کیا تھا، تاہم حتمی اعلان اس اندازوں سے بھی کہیں زیادہ نکلا۔
یاد رہے کہ مالی سال 2025 میں بھارت کا دفاعی بجٹ 6 ہزار 810 ارب روپے تھا، جو اس سے پچھلے سال کے مقابلے میں بھی 9 فیصد زیادہ تھا۔
ماہرین کے مطابق حالیہ بجٹ بھارت کی اس کوشش کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ مستقبل میں کسی بھی ممکنہ صورتحال کیلئے خود کو زیادہ مضبوط اور تیار دکھا سکے۔












