کراچی(پاک ترک نیوز ) اسٹیٹ بینک نے مانیٹری پالیسی میں پالیسی ریٹ 11.50 فیصد پر برقرار رکھنے کا اعلان کر دیا ، گورنر اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے مشرقِ وسطیٰ بحران کے باعث تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ ہوا، تیل کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی میں کمی کی رفتار متاثر ہوئی۔
گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا گزشتہ ماہ مہنگائی کی شرح 11.5 فیصد ریکارڈ کی گئی، کراچی: مارچ میں عالمی حالات کے باعث پیٹرولیم قیمتوں میں اضافے کے اثرات معیشت پر مرتب ہوئے، جولائی میں مہنگائی کی شرح میں مزید کمی آنے کے امکانات ہیں۔فوڈ آئٹمز کی قیمتوں میں کمی سے مہنگائی کی شرح میں کمی کی امید ہے،
گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ میں ہر ماہ تین سو ملین ڈالر اوسطاً آرہے ہیں، درآمدات میں گزشتہ سال کے مقابلے میں اضافہ کی توقع ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں 59لاکھ ڈالر کی کمی
گورنر اسٹیٹ بینک نے مزید کہا بیرونی قرضہ 26.5 ارب ڈالرز دییے گزشتہ مالی سال ہے ۔ اس سال ہم نے 21.5 ارب ڈالرز بیرونی ادائیگی کی مد میں دینے ہیں، اس میں 3.5 ارب ڈالرز سود کی مد میں ہے۔
گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ رواں مالی سال مہنگائی کی شرح 5 سے 7 فیصد کے ہدف کے درمیان رہنے کی توقع ہے، کراچی: گندم کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات مہنگائی پر مرتب ہوئے، پاکستان کا جاری کھاتوں کا خسارہ 139 ملین ڈالر ریکارڈ کیا گیا۔
گورنر اسٹیٹ بینک نے مزید کہا آئندہ مالی سال جاری کھاتوں کا خسارہ صفر سے ایک فیصد کے درمیان رہنے کی توقع ہے، دسمبر 2026 تک زرمبادلہ کے ذخائر 20.2 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔








