اسلام آباد: (پاک ترک نیوز)اسلام آباد کے نواحی علاقے ترلائی میں واقع امام بارگاہ خدیجتہ الکبریٰ ایک ہولناک سانحے کا شکار ہو گئی، جہاں جمعہ کی نماز کے دوران خودکش دھماکے نے قیامت ڈھا دی۔
اس اندوہناک واقعے میں اب تک کم از کم 31 نمازی شہید جبکہ 150 سے زائد افراد زخمی ہو گئے، جن میں کئی کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
عینی شاہدین کے مطابق دھماکا اس وقت ہوا جب نماز دوسری رکعت میں تھی اور نمازی سجدے میں موجود تھے۔ دھماکے کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ پورے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا اور قریبی عمارتوں کے شیشے چکنا چور ہو گئے۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ خودکش حملہ آور کو امام بارگاہ میں داخل ہونے سے روکا گیا، جس پر اس نے مرکزی دروازے کے قریب خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔
واقعے سے قبل فائرنگ کی آوازیں بھی سنی گئیں اور سکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ مختصر جھڑپ کی اطلاعات ہیں۔
دھماکے کی خبر ملتے ہی پولیس، ریسکیو ٹیمیں اور بم ڈسپوزل اسکواڈ موقع پر پہنچ گئے، جبکہ وفاقی دارالحکومت کے تمام بڑے اسپتالوں میں فوری طور پر ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔
پمز اسپتال، پولی کلینک، فیڈرل جنرل اسپتال اور بے نظیر اسپتال میں زخمیوں کو منتقل کیا گیا، تاہم پمز اسپتال میں گنجائش ختم ہونے کے باعث مریضوں کو راولپنڈی اور اسلام آباد کے دیگر طبی مراکز بھیجا جا رہا ہے۔
اسلام آباد پولیس کے سربراہ نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ اس حملے میں ان کے قریبی رشتہ دار بھی شہید ہوئے، جو نماز کی ادائیگی کے لیے امام بارگاہ میں موجود تھے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اس سانحے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کو ناقابلِ تلافی نقصان قرار دیا۔
انہوں نے زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی اور واقعے کی فوری اور شفاف تحقیقات کا حکم دیا۔
وزیراعظم نے واضح کیا کہ عبادت گاہوں کو نشانہ بنانے والے عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں، اور ذمہ داروں کو قانون کے مطابق سخت ترین سزا دی جائے گی۔ ساتھ ہی متعلقہ اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ زخمیوں کو ہر ممکن اور بہترین طبی سہولت فراہم کی جائے۔












