ریاض : (پاک ترک نیوز)مشرقِ وسطیٰ کی فضا میں ایک بار پھر خطرے کی گھنٹیاں بجنے لگی ہیں۔ خلیج کے اوپر ایک ایسا امریکی جنگی طیارہ دیکھا گیا ہے جو عام حالات میں شاذ و نادر ہی استعمال ہوتا ہے۔ نام ہے E-11A “فلائنگ گیٹ وے” اور اس کی موجودگی کسی بڑی جنگ کا اشارہ ہے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق یہ طیارہ امریکہ کی ہائی لیول جنگی کوآرڈینیشن کا مرکز ہوتا ہے۔ یہ نہ بم برساتا ہے، نہ میزائل فائر کرتا ہے بلکہ یہ پورے جنگی نیٹ ورک کو ایک دماغ میں بدل دیتا ہے۔
ذرائع کے مطابق E-11A کی پرواز کریٹ، لیونٹ اور خلیج فارس کے درمیان ریکارڈ کی گئی، جو اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ بحری بیڑے ابراہم لنکن اور جارج ڈبلیو بش کو قطر اور متحدہ عرب امارات میں موجود زمینی کمانڈ سینٹرز سے جوڑا جا رہا ہے۔
یہ وہی پیٹرن ہے جو جون 2025ء میں Operation Midnight Hammer سے قبل دیکھا گیا تھا۔ تب بھی یہی طیارہ فضا میں تھا اور پھر کارروائی ہوئی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکی بحری جہاز اس وقت الیکٹرانک خاموشی میں ہیں، یعنی ریڈار اور سگنلز بند۔ مگر E-11A مکمل طور پر متحرک ہے، تاکہ اگر “اندھیرے میں چھپے”
یہ جہاز اچانک حملہ کریں، تو ایک سیکنڈ کی تاخیر کے بغیر سب کچھ مربوط ہو۔ رپورٹس کے مطابق یہ طیارہ 50 ہزار سے زائد امریکی فوجیوں اور 2 مکمل کیریئر اسٹرائیک گروپس کی کوآرڈینیشن میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔
سوال یہ نہیں کہ یہ طیارہ کیوں آیا ؟اصل سوال یہ ہے: کیا امریکہ کسی بڑی کارروائی سے پہلے آخری ٹیسٹ کر رہا ہے؟ یا یہ محض ایران کے لیے ایک خاموش مگر سخت وارننگ ہے؟






