Sunday , 26 July , 2026
  • Login
پاک ترک نیوز
  • Homepage
  • Latest
  • Pakistan
  • Turkey
  • World
  • game
  • Economy
  • Columns/Blogs
  • Technology
  • Education and health
No Result
View All Result
  • Homepage
  • Latest
  • Pakistan
  • Turkey
  • World
  • game
  • Economy
  • Columns/Blogs
  • Technology
  • Education and health
No Result
View All Result
پاک ترک نیوز
No Result
View All Result
Home Most important

راوی، چناب اور ستلج میں انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ، ڈیڑھ لاکھ افراد منتقل

11 months ago
A A
راوی، چناب اور ستلج میں انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ، ڈیڑھ لاکھ افراد منتقل
Share on FacebookWhatsApp

لاہور(پاک ترک نیوز ) پی ڈی ایم اے نے چناب، راوی اور ستلج میں آئندہ 48 گھنٹوں میں اونچے سے انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ ظاہر کردیا، راولپنڈی، لاہور اور گوجرانوالہ ڈویژن میں بھی شہری سیلاب کا امکان ہے جبکہ دریائی علاقوں سے ڈیڑھ لاکھ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا۔
این ڈی ایم اے کے مطابق بہاولنگر سے 89 ہزار868 افراد جبکہ قصور سے 14 ہزار140 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے، اوکاڑہ سے 2 ہزار سے زائد افراد جبکہ بہاولپور، وہاڑی اور پاکپتن سے بھی سینکڑوں افراد کا انخلا کیا جا چکا ہے۔
سیلاب کا الرٹ جاری ہونے پر تقریبا 40 ہزار افراد پہلے ہی محفوظ مقامات پر منتقل ہو چکے ہیں۔
پی ڈی ایم اے نے صوبے میں متعلقہ اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کو بھی الرٹ رہنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں، جن اضلاع کی انتظامیہ کو الرٹ جاری کیا گیا ہے ان میں لاہور، ساہیوال، ملتان، بہاولپور، ڈیرہ غازی خان، قصور، اوکاڑہ، پاکپتن، وہاڑی، بہاولنگر، لودھراں، بہاولپور، ملتان اور مظفرگڑھ شامل ہیں۔
ترجمان ریسکیو پنجاب نے بتایا کہ انسانی انخلا دریائے سندھ، چناب، راوی، ستلج اور جہلم کے ملحقہ علاقوں سے کیا گیا۔
دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پرپانی کا بہاؤ 1 لاکھ 95 ہزار کیوسک سے بڑھ گیا ہے، ہیڈ سلیمانکی کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب ہے، سلیمانکی کے مقام پر پانی کی آمد 1 لاکھ 4 ہزاراور اخراج 98 ہزارکیوسک ہے۔
دریائے راوی میں جسڑ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 90 ہزار کیوسک ہے یعنی درمیانے درجے کا سیلاب ہے، دریائے راوی میں شاہدرہ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 40 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا جارہا ہے جو نچلے درجے کا سیلاب ہے، آج رات شاہدرہ سے 60 سے 70 ہزار کیوسک پانی کا ریلا گزرے گا، بلوکی 27 ہزار اور ہیڈ سدنائی میں پانی کا بہاؤ 12 ہزار کیوسک ہے۔
دریائے چناب خانکی میں پانی کی آمد 91 ہزار اور اخراج 84 ہزار ہے، ہیڈ مرالہ کے مقام پر پانی کی آمد 1 لاکھ 7 ہزار اور اخراج 89 ہزار کیوسک ہے جبکہ بھارت کی جانب سے 3 لاکھ کیوسک کے سیلابی ریلے کی آمد کا خدشہ ہے جس کے پیش نظر لوگوں کی نقل مکانی کے لیے مساجد میں اعلانات کیے جا رہے ہیں۔
ڈیرہ غازی خان کی رودکوہیوں میں بھی فلیش فلڈنگ کا خدشہ ہے، نالہ ایک، ڈیک اور بسنتر میں نچلے درجے کی سیلابی صورتحال ہے، نالہ بئیں اور نالہ پلکھو میں درمیانے درجے کی سیلابی صورتحال ہے۔
دریائے سندھ میں کوٹری بیراج پر بھی نچلے درجے کا سیلاب آ گیا جہاں پا نی کی آمد 2 لاکھ 17 ہزار 490 کیوسک ریکارڈ کی گئی، سکھر بیراج پر درمیانے درجے کا سیلاب برقرار ہے، تربیلا، کالا باغ، چشمہ اور گڈوپر بھی نچلے درجے کے سیلاب ہیں۔
ضلعی انتظامیہ نے انخلا کے لیے رینجرز،فوج اورپولیس کی مدد حاصل کرلی، انتظامیہ کی جانب سے عملے کی چھٹیاں منسوخ کرتے ہوئے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
دریائے ستلج میں بہاولپور اور بہاولنگر کے مقام پر پانی کی سطح میں اضافہ ہونے سے مزید کئی دیہات زیر آب آگئے، مکانات اور ہزاروں ایکڑ زرعی اراضی کو شدید نقصان پہنچا۔
بستی جانن والی، بستی بھٹیاں اور چاویکا میں بند ٹوٹنے سے پانی فصلوں میں داخل ہو گیا، متعدد آبادیاں پانی میں ڈوب گئیں، کئی دیہات کے بہاولنگر سے زمینی رابطے منقطع ہو گئے جبکہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں سے لوگ محفوظ مقامات پر منتقل ہو رہے ہیں۔
دریائے ستلج میں بابا فرید پل پاکپتن کے مقام پر 90 ہزار کیوسک کا ریلا گزر رہا ہے، تین ہزار متاثرین نقل مکانی کرکے محفوظ مقام پر منتقل ہو گئے، سیلاب کے باعث درجنوں دیہات کا زمینی رابطہ منقطع ہو گیا۔
بورے والا میں ساہوکا اور ملحقہ آبادیاں زیر آب آگئیں، ساہوکا چشتیاں روڈ میں شگاف پڑگیا جس کی وجہ سے سیکڑوں دیہاتوں کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا، سیلابی صورت حال کے باعث کشتیوں کےذریعے لوگوں کی محفوظ مقامات پر منتقلی جاری ہے۔
چنیوٹ کے مقام پر دریائے چناب میں پانی کی سطح مسلسل بلند ہو رہی ہے، ضلعی انتظامیہ نے لوگوں کو مال مویشیوں سمیت محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کر دی، ممکنہ سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے 8 فلڈ ریلیف کیمپ قائم کر دیے گئے، سانپ کے کاٹنے کی ادویات سمیت تمام ادویات کیمپ میں دستیاب ہیں۔
منچن آباد میں موضع رتیکا اور لالہ امر سنگھ سمیت متعدد دیہات کے عارضی حفاظتی بند ٹوٹنے سے ہزاروں ایکڑ زرعی اراضی زیر آب آ چکی ہے، دھان، کپاس اور مکئی کی فصلوں میں پانی داخل ہو گیا جبکہ سیلابی پانی سے متعدد بستیوں کا زمینی راستہ بھی منقطع ہے۔
عارف والا کی بستی صابوکا، یسین کے، بلاڑہ دلاور، بلاڑہ ارجن کا سمیت مزید علاقے پانی میں ڈوب گئے، رابطہ سڑکیں ٹوٹنے سے متعدد دیہات کا زمینی رابطہ منقطع ہو گیا، ہزاروں ایکڑ زرعی اراضی زیر آب آ چکی ہے، ضلعی انتظامیہ نے مزید درجنوں دیہات فوری خالی کرنے کی ہدایت کی۔
قدرتی آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق رواں برس 26 جون سے جاری مون سون کی شدید بارشوں کے باعث سیلابی صورت حال، بادل پھٹنے، لینڈ سلائیڈنگ اور دیگر واقعات میں ملک بھر میں اب تک 750 سے زائد اموات ہو چکی ہیں، سینکڑوں لوگ زخمی ہیں جبکہ گھروں اور املاک کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔
این ڈی ایم اے نے ملک کے مختلف حصوں میں 23 سے 30 اگست تک شدید بارشوں، پہاڑی تودے گرنے سیلاب اور نشیبی علاقوں کے زیر آب آنے کا الرٹ جاری کیا ہے۔

Tags: chinabfloorindiasutlawater
ShareSend

Related Posts

Lahore's groundwater is depleting rapidly; alarm bells have rung.
Latest

لاہور کا زیر زمین پانی تیزی سے کم ،خطرے کی گھنٹی بج گئی

15 July , 2026
Why does Modi receive foreign honors Questions raised over the new award from Seychelles as well.
Latest

Why does Modi receive foreign honors? Questions also arise over Seychelles' new award

July 10, 2026
پانی ہمارے لیے زندگی کا مسئلہ ہے ،حفاظت کرینگے ،عطا تارڑ
The 3 most important

پانی ہمارے لیے زندگی کا مسئلہ ہے ،حفاظت کرینگے ،عطا تارڑ

6 July , 2026
سندھو پرجنگ لڑنا پڑی تو لڑیں گے ،بلاول بھٹو زرداری کا بھارت کو دو ٹوک پیغام
Latest

سندھو پرجنگ لڑنا پڑی تو لڑیں گے ،بلاول بھٹو زرداری کا بھارت کو دو ٹوک پیغام

6 July , 2026
جنوبی ایشیا میں امریکا نے بھارت سے اجازت لینا چھوڑ دی
Latest

جنوبی ایشیا میں امریکا نے بھارت سے اجازت لینا چھوڑ دی

5 July , 2026
Indus Waters Treaty Pakistan’s resolve to respond vigorously at every level to India’s water aggression.
Latest

سندھ طاس معاہدہ ،پاکستان کا بھارتی جارحیت کا ہر سطح پر بھرپور جواب کا عزم

3 July , 2026
Next Post
آسٹریلیا کا ایران پر یہود مخالف حملوں کا الزام، سفیر ملک بدر، پاسداران انقلاب پر پابندی

آسٹریلیا کا ایران پر یہود مخالف حملوں کا الزام، سفیر ملک بدر، پاسداران انقلاب پر پابندی

Read this too

Who will form the government in Azad Kashmir

آزاد کشمیر میں کون بنائے گا حکومت؟

26 July , 2026
Saudi Arabia Precautionary alerts issued for Yanbu and Jazan lifted; the threat has passed.

سعودی عرب: ینبع اور جازان کے لیے جاری احتیاطی الرٹس ختم، خطرہ ٹل گیا

26 July , 2026
TAPI Gas Project A $420 million project has been prepared to supply natural gas to the city of Herat.

تاپی گیس منصوبہ ہرات کے قریب، شہر میں قدرتی گیس کی فراہمی کے لیے 42 کروڑ ڈالر کا منصوبہ تیار

26 July , 2026
China imposes export restrictions on 14 European companies.

چین کی 14 یورپی کمپنیوں پر برآمدی پابندی

26 July , 2026
Trump's request to limit voting by mail rejected

ڈاک کے ذریعے ووٹنگ محدود کرنے سے متعلق ٹرمپ کی درخواست مسترد

26 July , 2026

About Us

"Pak Turk News is an unbiased Urdu news website committed to delivering timely and authentic reports, analyses, and feature articles on important news from Pakistan, Turkey, and around the world to its Urdu-speaking readers. We offer a new perspective on Pak-Turk relations, global politics, economy, culture, and social issues, enabling readers to stay informed, conscious, and influential.

  • Homepage
  • Pakistan
  • Latest
  • Turkish
  • World
  • About Us
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Declaration of non-attachment
  • Contact

Follow us on social media

Facebook Twitter Instagram Youtube

Copyright 2026 © All publishing rights reserved by Pak Turk News. Reproduction without permission is prohibited.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Homepage
  • Latest
  • Pakistan
  • Turkey
  • World
  • game
  • Economy
  • Columns/Blogs
  • Technology
  • Education and health

Copyright 2026 © All publishing rights reserved by Pak Turk News. Reproduction without permission is prohibited.

English
Urdu