Wednesday , 22 July , 2026
  • Login
پاک ترک نیوز
  • Homepage
  • Latest
  • Pakistan
  • Turkey
  • World
  • game
  • Economy
  • Columns/Blogs
  • Technology
  • Education and health
No Result
View All Result
  • Homepage
  • Latest
  • Pakistan
  • Turkey
  • World
  • game
  • Economy
  • Columns/Blogs
  • Technology
  • Education and health
No Result
View All Result
پاک ترک نیوز
No Result
View All Result
Home Latest

سندھ طاس معاہدہ ،پاکستان کا بھارتی جارحیت کا ہر سطح پر بھرپور جواب کا عزم

3 weeks ago
A A
Indus Waters Treaty Pakistan’s resolve to respond vigorously at every level to India’s water aggression.
Share on FacebookWhatsApp

از : سہیل شہریار

پاکستان سندھ طاس معاہدے کو التوا میں رکھنے کے بھارتی اقدام کو مسترد کرتا ہے۔ یہ معاہدہ عالمی بینک کی طرف سے ثالثی کے ذریعے ایک پابند بین الاقوامی معاہدہ ہے اور اس میں یکطرفہ معطلی کی کوئی شق نہیں ہے۔پاکستان کی قومی سیکور ٹی کمیٹی (این ایس سی) سندھ طاس آبی معاہدے کی یکطرفہ معطلی کو مسترد کرتے ہوئے متنبہ کر چکی ہے کہ پانی کے بہاؤ کو موڑنے یا روکنے کی کسی بھی کوشش کو "جنگ کی کارروائی” کے طور پر سمجھا جائے گا، اور اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔یہ معاہدہ عالمی بینک کی طرف سے ثالثی کے ذریعے ایک پابند بین الاقوامی معاہدہ ہے اور اس میں یکطرفہ معطلی کی کوئی شق نہیں ہے۔

یہ حقیقت ہے کہ بھارت مغربی دریاؤں کے پاکستان میں داخل ہونے سے پہلے ان کا بالائی استعمال کنندہ ہے۔ پاکستان کی زرعی زمین کا انحصار ان دریاؤں کے قابل اعتماد بہاؤ پر ہے۔اسی بنیادپریہ معاہدہ طے پایا تھا۔تاریخی طور پردریاؤں کے پانی کی یہ تقسیم اپریل 1948 کے نہری پانی کے بحران کی وجہ سے پیدا ہونے والے شدید خطرے سے پیدا ہوئی تھی۔ جب ہندوستان نے عارضی انتظامات کی میعاد ختم ہونے کے بعدپاکستان کو پانی کی سپلائی روک دی۔ اس واقعہ نے پاکستان کے زرعی علاقوں کو پانی سے محروم کر دیا اور ایک دیرپا خوف چھوڑ دیا کہ اپ اسٹریم کنٹرول کو ڈاؤن اسٹریم کی بقا کا فیصلہ کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

سندھ طاس معاہدے نے پانی روکنے کی صوابدید کو قانونی ذمہ داری سے بدل دیا۔ابتداً 4 مئی 1948 کو دونوں حکومتوں کے مابین انتظام میں مشرقی پنجاب کی طرف سے مغربی پنجاب کو نہری پانی کی فراہمی پر براہ راست تنازعہوقتی طور پر حل کر دیا۔عالمی بینک کی 1954 کی تجویز اس سنجیدہ مسئلے کے پائیدار حل کی جانب اہم پیش رفت تھی ۔جس میں بنک کی رائے تھی کہ دونوں ملک آزادی سے اپنے حصے کےمختص شدہ پانی پر کنٹرول حاصل کریںاور اسے اپنی ضرورت کے مطابق بروئے کار لائیں۔ اور ایسی صورتحال سے بچا جا سکے جس میں اپ اسٹریم سے ڈاؤن اسٹریم کے پانی کو کنٹرول کیا جا سکے۔

پاکستان کو 1954سے1958کے درمیان کہا جا رہا تھا کہ وہ پنجاب میں آب پاشی کے لئے راوی، بیاس اور ستلج کے پانیوں پرتاریخی انحصار کو ختم کر دے۔اور اپنے حصے میں آنے والے مغربی دریاؤں کو نئی نہروں اور بیراجوںکے ذریعےملک کے قدیمی نہری نظام سے منسلک کر لےجس کے لئے عالمی بنک اور دوست ملکوں نے معاونت کی یقین دہانی کروائی ۔اس بڑے تعمیراتی منصوبے کے تمام امور پر تفصیلی غور کے بعد پاکستان نے سندھ طاس معاہدے پر رضامندی ظاہر کی۔ چنانچہ عالمی بنک کی ثالثی میں 1955میں شروع ہونے والے مزاکراتی عمل کا نتیجہ 19ستمبر 1960کو دونوں ملکوں کے مابین سندھ طاس معاہدے کی صورت میں سامنے آیا۔اس وقتبھارت کے وزیر اعظم جواہر لال نہرو اور پاکستان کے سربراہ مملکت جنرل ایوب خان نے کراچی میں اس معاہدے پر دستخط کیے ۔

سندھ طاسمعاہدہ کئی جنگوں، اختلافات اور جھگڑوں کے باوجود 66 برس سے اپنی جگہ قائم ہے۔ اور اس حوالے سے بھارت کے آبی وسائل کے سابق وزیر سیف الدین سوز نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ’انڈیا اور پاکستان کے درمیان ہونے والے سبھی معاہدوں میں یہ سب سے کامیاب اور با اثر معاہدہ ہے۔‘

اس معاہدے کے تحت تین مشرقی دریاؤںراوی، بیاس، اور ستلج کا مکمل کنٹرول بھارت کو دیا گیا۔اور تین مغربی دریاؤںسندھ، جہلم، اور چناب کا پانی پاکستان کے حصے میں آیا۔ یہ بھی طے پایا کہ بھارت مغربی دریاؤں کے پانی کوپن بجلی، زراعت، اور گھریلو استعمال کے لیے محدود پیمانے پر استعمال کر سکتا ہے۔ لیکن وہ پاکستان کے حصے کا پانی روک نہیں سکتا۔ جبکہ پانی کی تقسیم یا کسی نئے ڈیم کی تعمیر پر دونوں ممالک میں کوئی اختلاف پیدا ہو نے کی صورت میں اسے حل کرنے کے لیے ایک مستقل مشترکہ کمیشن بنایا گیا ۔جس کے تحت دونوں ملکوں میں سندھ طاس کمشنروں کے دفاتر قائم ہوئے۔اس کے علاوہ دریاؤں میں پانی کی دستیابی اور سیلاب کی صورت میں پیشگی اطلاع کا مربوط نظام بھی تشکیل دیا گیا۔ مغربی دریاؤ پر پاکستان کے حق کو قائم رکھنے کے ضمن میںسندھ طاس معاہدے کی سب سے اہم شق اس معاہدے کا ناقابل تنسیخ ہونا ہے۔

سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی کے جھگڑے کو بخیر وخوبی حل کر دیا گیا ۔مگر بھارت جس نے تقسیم کے فوری بعد ہی مشرقی دریاؤں سے عین ربیع کی فصلوں کی کاشت کے موقعہ پر پانی بند کرپاکستانی کسانوں کو شدید مالی نقصانات سے دو چار کرکے اپنے ارادے اور نیت ظاہر کردئیے تھے ۔وہ بعد میں بھی پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی سازشیں کرتا رہا ہے ۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت جنگ کے بیج بو کر خطے کے امن کو خطرے میں نہ ڈالے،اسحاق ڈار

سندھ طاس کمیشن کا باری باری ہرملک میں سال میں کم از کم ایک اجلاس معاہدے کا حصہ ہے ۔ مگر اسکے اب تک 118اجلاس منعقد ہو چکے ہیں جن میں سے آخری اجلاس 30اور31مئی2022 کو نئی دہلی میں منعقد ہوا تھا ۔جس کے بعد سے بھارت مقبوضہ کشمیر میں دریائے چناب اور جہلم پر متنازعہ ڈیموں کی تعمیر کے لئے سندھ طاس کمیشن کے اجلاسوں سے فرار اختیار کئے ہوئے ہے ۔ چنانچہ 2022کے بعد سے اب تک کمیشن کا کوئی اجلاس منعقد نہیں ہوا۔

بھارت کی ہندتوا پرست حکومت پاکستان کے خلاف مختلف محاذوں پر پے در پے ناکامیوں کے بعد اب پانی کو بظور ہتھیار استعمال کرنے پر تلی ہوئی ہے۔اس نے پہلے تو 2024میں سندھ طاس معاہدے میں تبدیلیوں کا مطالبہ کیا ۔جسے پاکستان نے معاہدے کے دوسرے فریق کی حیثیت سے مسترد کر دیا۔ جس کے بعد پہلگام کے انتہائی قابل افسوس واقعہ میں پاکستان کے ملوث ہونے کی من کھڑت کہا نی کو جواز بنا کر اپریل 2025سے اپنے طور پر سندھ طاس معاہدے کو معطل کر رکھا ہے۔ حالانکہ وہ یک طرفہ طور پر ایسا کرنے کا مجاز نہیں۔

پاکستان کا مؤقف ہے کہ معاہدے میں "معطلی” کی کوئی قانونی گنجائش نہیں ہے۔ آرٹیکل 4 معاہدے کو اس وقت تک نافذ رکھتا ہے جب تک کہ دونوں حکومتوں کے درمیان معاہدے کے خاتمے کا باضابطہ توثیق شدہ معاہدہ نہیں کیا جاتا۔مزید براں دہشت گردی کے بے بنیاد الزامات جنہیں پاکستان مسترد کرتا ہے۔ کو جواز بنا کر پانی کی تقسیم کے معاہدے کو معطل کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

ماضی کی سیکولر بھارتی حکومتوں کے متضاد ہندتوا پرست مودی سرکار2018سے پانی بطور ہتھیار استعمال کرنے کی سازش کر رہی ہے۔ اور نریندر اور اسکے حواری متعدد مرتبہ اس کا اظہار بھی کر چکے ہیں ۔مودی نے 2016 میںاڑی واقعے کے بعد کہا تھا کہ "خون اور پانی ایک ساتھ نہیں بہہ سکتے”۔اور گذشتہ برس پہلگام کے واقعہ اور اسکے نتیجے میں کئے گئے آپریشن سندور میں مکمل ناکامی کے بعد بھیمودی نے پاکستان کو پانی ایک بوند بھی نہ دینے کی دھمکی دی تھی۔

جس کے لئے معاہدے کی مکمل خلاف ورزی کرتے ہوئے دریائے چناب اور جہلم پر پانی کارخ موڑنے اور پانی ذخیرہ کرنے والے پن بجلی منصوبوں پر عمل پیرا ہے۔ حالانکہ سندھ طاس معاہدے کے آرٹیکل 3اور ذیلی شقوں سی، ڈی اور ای میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ مغربی دریاؤں پر بھارت کو صرف پانی کے بہاؤ سے بجلی پیدا کرنے کی اجازت ہے۔

پاکستان 2022 میں نئی دہلی میں ہونے والے سندھ طاس کمیشن کے اجلاس کے بعد بھارتیطرز عملکو دیکھتے ہوئے 2023کے آغاز میں یہ معاملہ عالمی ثالثی عدالت میں لے گیا۔مگر بھارت نے اپنی ہٹ دھرمی کی وجہ سے مقدمے کی پیروی سے انکار کر دیا ۔اور قرار دیا کہ عالمی ثالثی عدالت کو اس مقدمے کی سماعت کا اختیار نہیں۔تاہم عدالت نے بھارتی مؤقف کو مسترد کرتے سماعت جاری رکھنے کا فیصلہ دیا۔

اگرچہ بھارت نےاس پہلے بھی مستقل سندھ طاس کمیشن اور بگلیہار غیر جانبدار ماہر کی2005-06میں ہونے والی کارروائی میں حصہ نہیں لیا تھا۔ بھارت نے معاہدے کے دیباچے میں تحریر ان تمہیدی الفاظ "انتہائی مکمل اور تسلی بخش استعمال” کی مخالفت کی تھی۔ اور ساتھ ہی اسکی جانب سے پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کے پاکستان کے اندیشے کو بھی رد کیا تھا۔ مگر ساتھ یہ بھی کہا تھا کہ یہ معاہدہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے نہیں بنایا گیا تھا کہ بھارت کبھی بھی پاکستان کی طرف بہاؤ کو کم نہ کر سکے۔

ریکارڈ پر دستیاب ہندوستان کی پوزیشن پر غور کرنے کے بعد عالمی ثالثی عدالت نے اپنے حالیہ فیصلے میں قرار دیا ہے کہ ہندوستان یا کسی بھی فریق کی جانب سے معاہدے کے دیباچے میںتمہید کو یکطرفہ ترقی کے چارٹر کے طور پر نہیں پڑھنا چاہیے۔ اس میں کہا گیا کہ مکمل اور تسلی بخش استعمال فریقین کے متعلقہ حقوق اور ذمہ داریوں کی ایک مستحکم، حتمی اور تعاون پر مبنی حد بندی کے ذریعے حاصل کیا جاتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ مغربی دریاؤں کو ایسے پانی کے طور پر بیان نہیں کیا جا سکتا جس پر ہندوستان نے محض رسمی طور پر رسائی حاصل کی جبکہ وہ اس کے زیر انتظام علاقے سے گزرتے ہیں۔ بھارت نے عبوری دور کے بعد مشرقی دریاؤں پر قانونی حق حاصل کر لیا۔ پاکستان نے مغربی دریاؤں تک قانونی طور پر محفوظ رسائی حاصل کی۔یہ بھارتی استعمال کو خارج کرنے کے مطلق حق کے طور پر نہیں۔ بلکہ معاہدے کے مخصوص استعمال کے علاوہ بہنے اور مداخلت نہ کرنے کی بھارت کی ذمہ داری کے ذریعے ہے۔

عدالت نے کہا کہ اگرچہ یہ معاہدہ ایک سرحدی معاہدہ نہیں ہے۔ لیکن اس کا مقصد ایک سرحدی معاہدے کی اہمیت اور مستقل مزاجی سے ملتا جلتا ہے کیونکہ یہ مشترکہ قدرتی وسائل کے سلسلے میں فریقین کے حقوق کو ان کی سرحد کے ساتھ مستحکم کرتا ہے۔ اس معاہدے کا مقصد نہ صرف مشرقی دریاؤں کو بھارت اور مغربی دریا پاکستان کو "مکمل اور تسلی بخش استعمال” کے لیے مختص کرنا ہے۔ بلکہ مغربی دریاؤں پر اپ اسٹریم انڈیا کی ذمہ داریوں کا بھی تعین کرنا ہے تاکہ پانی کی پاکستان تک محفوظ اور مستقل رسائی کو یقینی بنایا جا سکے۔

بھارت معاہدے کے تحت مغربی دریاؤںسے پن بجلی پیدا کر سکتا ہے۔مگرصرف معاہدے کے مطابق منصوبوں کے ذریعے اور آرٹیکل3اور ضمیمہڈی کی طرف سے مقرر کردہ حدود کے اندررہتے ہوئے۔اسی لئے بھارت کو ہائیڈرو پاور میں رکاوٹ ڈالنے کے الزام سے احتیاط برتنی چاہیے۔ کیونکہ یہ معاہدہ بذات خود پانی کے بہاؤ پر پن بجلی منصوبوں کی اجازت دیتا ہے۔

لیکن کوئی منصوبہ محض اس لیے جائز نہیں ہے کہ اس پر ر ن آ ف ریور کا لیبل لگا ہوا ہے۔ اسے لازمی طور پر سندھ طاس معاہدہ کے ضمیمہڈی کی تعمیل کرنی چاہیے۔ کم سطح کےدھانے،دروازوں والے سپل ویز، ڈوب جانے والے انٹیک، تالاب، فری بورڈ اورعملی قواعد محض معمولی تکنیکی باتیں نہیں ہیں۔ وہ اس بات کا تعین کرتے ہیں کہ ایک اپ اسٹریم آپریٹر نیچے کی دھارے کے بہاؤ کے وقت، حجم اور قابل اعتماد ہونے پر کتنا کنٹرول کرسکتا ہے۔اس لئے پاکستان ایسے تمام منصوبوں پراعتراض کرنے کا حق رکھتا ہے ۔کیونکہ کوئی منصوبہ بعض حالات میں مناسب بہاؤ اور سیلاب کو روکنے کےاعتدال پسند فوائد کا حامل ہو سکتا ہے۔اس کے باوجود اسکا معاہدےکی شرائط پر پورا اترنا ناگزیر ہے۔

عالمی ثالثی عدالت کاجنرل ایشوز پر 8 اگست 2025 کا ایوارڈ اور پانی ذخیرہ کرنے پر 15 مئی 2026 کا اضافی ایوارڈ یہاں براہ راست متعلقہ ہے۔ ان ایوارڈز نے ضمیمہڈی سے متعلق عمومی سوالات کو حل کیا ہے اور واضح کیا ہے کہ معاہدے کی شرائط پہلے آتی ہیں۔ اس لئے عصری انجینئرنگ کی مشق معاہدے کو زیر نہیں کر سکتی۔

ایک ڈیزائن حلال نہیں ہے کیونکہ یہ ہندوستان کے لیے بہترین ہے۔ یہ وہ ڈیزائن ہونا چاہیے جو ہندوستان کی طرف سے قبول کی گئی معاہدے کی شرائط کے اندر عملی طور پر حاصل کیا جا سکے۔ عدالت نے نچلے درجے کے آؤٹ لیٹس، گیٹڈ اسپل ویز، ٹربائن انٹیک، تالاب اور فری بورڈ سے متعلق مسائل کو بھی واضح کیا۔ اور یہ اس دعوے کو بھی مسترد کرتا ہے کہ پاکستان کے اعتراضات محض سیاسی ہیں۔

بھارت کی جانب سے پاکستان پردہشت گردی کے الزاماتبھارتی آبی جارحیت کا سب سے خطرناک حصہ ہیں۔ وہ اس طرح کے الزامات لگا کر یہ دلیل دیتا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان خیر سگالی اب باقی نہیں رہی۔ حالانکہ پاکستان نے دہشت گردی کی مذمت کی ہے اور بھارت کے الزامات اور انہیںپانی کے معاہدے سے جوڑنے کی کوششوں کو مسترد کر دیا ہے۔

اس معاہدے نے جنگوں اور بحرانوں کو برداشت کیا ہے کیونکہ یہ قانون کے طور پر تشکیل دیا گیا ہے۔ نہ یہ، خیرات ہے اور نہ ہی یہ دوستیپر مبنی معاہدہ ہے۔ یہ عدم اعتماد کے باوجود ذمہ داریاں پیدا کرتا ہے۔ یہ ہندوستان کو ترقی سے نہیں روکتا۔ یہ ترقی کو منظم کرتا ہے جہاں بھارت کا اپ اسٹریم کنٹرول ہے اور پاکستان کو ڈاون اسٹریم کا خطرہ ہے۔ یہ پاکستان کو ان دریاؤں میں مداخلت کے خلاف قانونی تحفظ فراہم کرتا ہے جن پر اس کے عوام کا انحصار ہے۔

اگر ہر معاہدے کے تحفظ کو غیر منصفانہ، ہر پاکستانی اعتراض کو رکاوٹ، ہر ثالثی کارروائی کو ہتھیار سازی اور ہر یکطرفہ ہندوستانی اقدام کو جائز قرار دیا جائے۔ اور جب قانون کوصوابدید سے بدل دیا جائے۔تو یہ بالکل وہی ہے جس سے بچنے کے لیے یہ معاہدہ بنایا گیا تھا۔

سندھ طاس معاہدہ پاکستان کے لیے بھارتیعایت نہیں تھا۔ یہ مسابقتی حقوق اور وجودی کمزوریوں کا تصفیہ تھا۔ اس لیے پاکستان کا موقف سیدھا ہے۔معاہدے کا احترام کریں، ڈیٹا کا اشتراک کریں، معائنے کی اجازت دیں، کمیشن اور آرٹیکل IX کے ذریعے سوالات حل کریں، اور صرف وہی بنائیں جس کی معاہدہ اجازت دیتا ہے۔

Tags: #induswaterpakistnawater
ShareSend

Related Posts

Lahore's groundwater is depleting rapidly; alarm bells have rung.
Latest

لاہور کا زیر زمین پانی تیزی سے کم ،خطرے کی گھنٹی بج گئی

15 July , 2026
پانی ہمارے لیے زندگی کا مسئلہ ہے ،حفاظت کرینگے ،عطا تارڑ
The 3 most important

پانی ہمارے لیے زندگی کا مسئلہ ہے ،حفاظت کرینگے ،عطا تارڑ

6 July , 2026
سندھو پرجنگ لڑنا پڑی تو لڑیں گے ،بلاول بھٹو زرداری کا بھارت کو دو ٹوک پیغام
Latest

سندھو پرجنگ لڑنا پڑی تو لڑیں گے ،بلاول بھٹو زرداری کا بھارت کو دو ٹوک پیغام

6 July , 2026
بھارت جنگ کے بیج بو کر خطے کے امن کو خطرے میں نہ ڈالے،اسحاق ڈار
The 3 most important

بھارت جنگ کے بیج بو کر خطے کے امن کو خطرے میں نہ ڈالے،اسحاق ڈار

June 30, 2026
Not only Pakistan but also Bangladesh is being affected by water shortage, says Musaddiq Malik
Latest

پانی کی قلت سےصرف پاکستان ہی نہیں بنگلہ دیش بھی متاثر ہورہا ہے،مصدق ملک

June 30, 2026
Work on four major dam projects in Pakistan accelerates
Latest

پاکستان میں چار بڑے ڈیم منصوبوں پر کام تیز

2 June , 2026
Next Post
Field Marshal Syed Asim Munir has arrived in Tehran.

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر تہران پہنچ گئے

Read this too

ایران کے اردن میں امریکی فوجی اڈوں پر حملے

ایران کے اردن میں امریکی فوجی اڈوں پر حملے

22 July , 2026
کشمیر کا فیصلہ پنجاب اور سندھ کی بجائے کشمیری عوام کریں گے،بلاول بھٹو زرداری

کشمیر کا فیصلہ پنجاب اور سندھ کی بجائے کشمیری عوام کریں گے،بلاول بھٹو زرداری

22 July , 2026
فرانس میں 15سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کرنے پر پابندی

فرانس میں 15سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کرنے پر پابندی

22 July , 2026
ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی کا نادرا ہیڈکوارٹرز کا دورہ

ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی کا نادرا ہیڈکوارٹرز کا دورہ

22 July , 2026
سونے اور چاندی کی قیمت میں اضافہ

سونے اور چاندی کی قیمت میں اضافہ

22 July , 2026

About Us

"Pak Turk News is an unbiased Urdu news website committed to delivering timely and authentic reports, analyses, and feature articles on important news from Pakistan, Turkey, and around the world to its Urdu-speaking readers. We offer a new perspective on Pak-Turk relations, global politics, economy, culture, and social issues, enabling readers to stay informed, conscious, and influential.

  • Homepage
  • Pakistan
  • Latest
  • Turkish
  • World
  • About Us
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Declaration of non-attachment
  • Contact

Follow us on social media

Facebook Twitter Instagram Youtube

Copyright 2026 © All publishing rights reserved by Pak Turk News. Reproduction without permission is prohibited.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Homepage
  • Latest
  • Pakistan
  • Turkey
  • World
  • game
  • Economy
  • Columns/Blogs
  • Technology
  • Education and health

Copyright 2026 © All publishing rights reserved by Pak Turk News. Reproduction without permission is prohibited.

English
Urdu