لاہور (پاک ترک نیوز )دوہرے قتل کیس میں ملزم مقدمہ کے 41 سال بعد لاہور ہائیکورٹ سے باعزت بری ہو گیا
لاہور ہائیکورٹ نے 1985 کے قتل مقدمے میں ملزم کی سزا کے خلاف اپیل منظور کر لی۔عدالت ٓ نے ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا
انیس سو پچاسی کے مقدمے میں 2026 میں ملزم تاج دین کو بڑا ریلیف مل گیا۔ جسٹس محمد محمدامجد رفیق نے ملزم تاج دین کی اپیل پر فیصلہ جاری کیا
چودہ صفحات کے فیصلے میں عدالت نے لکھا ملزم تاج دین کے خلاف 28 اکتوبر 1985 کو رحیم یار خان میں قتل کا مقدمہ درج ہوا ۔ٹرائل کورٹ نے 2017 میں جرم ثابت ہونے پر تاج دین کو عمر قید کی سزا سنائی۔
عدالتی فیصلے کے مطابق استغاثہ جرم ثابت کرنے اور میڈیکل شواہد پیش کرنے میں ناکام رہا ، میڈیکل افسر کی عدالت میں عدم پیشی استغاثہ کے لیے نقصان دہ ثابت ہوئی ، گواہوں کے بیانات میں تضادات ہیں ، سزا برقرار نہیں رہ سکی۔
ٰیہ بھی پڑھیں:ایم پی اے ثاقب چدھڑ کے خلاف 3 مقدمات درج
عدالت کے فیصلے میں کہا گیا گواہوں کی موقع پر موجودگی اور وقوعہ کی کہانی مشکوک ہے،پراسیکیوشن کا مقدمہ شکوک و شبہات کا شکار قرار ہے ،پولیس تفتیش اور شواہد میں خامیاں سامنے آگئیں
لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا شک کی بنیاد پر سزا نہیں دی جا سکتی،فائدۂ شک ملزم کا قانونی حق ہے،سزا برقرار رکھنے کے لیے مضبوط شواہد ضروری ہیں
لاہور ہائی کورٹ نے عمر قید کی سزا ختم کر کے ملزم کی فوری رہائی کا حکم دے دیا












