اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) : بحریہ ٹاؤن کے نائب چیف ایگزیکٹو ریٹائرڈ کرنل خلیل الرحمٰن، ایک کرنسی ڈیلر اور ایک پراپرٹی ڈیلر کو 1.7 ارب روپے غیر قانونی طور پر حوالہ ہنڈی کے ذریعے بیرونِ ملک منتقل کرنے کے مقدمے میں عدالت نے مجرم قرار دے دیا۔
عدالتی فیصلے کے مطابق تینوں ملزمان کو غیر ملکی زرمبادلہ ریگولیشن ایکٹ کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیتے ہوئے ایک، ایک سال قیدِ سادہ اور پانچ، پانچ لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی۔
سزا پانے والوں میں بحریہ ٹاؤن کے نائب چیف ایگزیکٹو ریٹائرڈ کرنل خلیل الرحمٰن، مبینہ حوالہ ہنڈی آپریٹر محمد عمران عرف عمران کاکا اور پراپرٹی ڈیلر محمد مشتاق احمد شامل ہیں۔
مقدمہ ایف آئی اے کارپوریٹ کرائم سرکل اسلام آباد نے 9 جولائی 2025 کو درج کیا تھا۔ ایف آئی آر کے مطابق ملزمان نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی منظوری اور قانونی بینکاری نظام کو نظر انداز کرتے ہوئے تقریباً 1.7 ارب روپے حوالہ اور ہنڈی کے ذریعے بیرونِ ملک منتقل کیے۔
یہ بھی پڑھیں: اینکر مرید عباس قتل کیس ،ملزم عاطف زمان کو 2بار سزائے موت کا حکم
تحقیقات کے مطابق یہ رقوم بحریہ ٹاؤن کے مختلف منصوبوں سے متعلق ادائیگیوں کے لیے غیر قانونی ذرائع سے بیرونِ ملک بھیجی گئیں، جس سے پاکستان کے ریگولیٹڈ فارن ایکسچینج نظام کی خلاف ورزی ہوئی۔
عدالت نے شواہد کا جائزہ لینے کے بعد قرار دیا کہ استغاثہ ملزمان کے خلاف الزامات ثابت کرنے میں کامیاب رہا، جس کے بعد تینوں کو قانون کے مطابق سزا سنائی گئی۔












