لاہور( پاک ترک نیوز) اگر زمین کا سب سے بڑا قدرتی محافظ ہی خطرے میں پڑ جائے تو کیا ہوگا؟ یہی سوال آج دنیا بھر کے سائنسدانوں کو پریشان کر رہا ہے، کیونکہ سمندر مسلسل گرم ہو رہے ہیں اور ان کا بڑھتا ہوا درجہ حرارت پوری دنیا کے موسمی نظام کو متاثر کرنے لگا ہے۔
تازہ سائنسی اعداد و شمار کے مطابق 21 جون کو عالمی سمندری سطح کا اوسط درجہ حرارت 69.5 ڈگری فارن ہائیٹ ریکارڈ کیا گیا، جو جون کے مہینے کا اب تک کا بلند ترین درجہ حرارت قرار دیا جا رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہی رجحان برقرار رہا تو آئندہ مہینوں میں مزید نئے ریکارڈ قائم ہو سکتے ہیں، جس کے اثرات دنیا بھر میں شدید گرمی، طاقتور طوفانوں اور غیر معمولی بارشوں کی صورت میں سامنے آ سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد میں بارش ،محکمہ موسمیات کی پنجاب میں پھر بادل برسنے کی پیش گوئی
سائنسدانوں کے مطابق سمندر زمین کی اضافی حرارت کا تقریباً 90 فیصد حصہ اپنے اندر جذب کرتے ہیں، مگر اب یہی سمندر غیر معمولی حد تک گرم ہو چکے ہیں۔ ماہرین اس کی بڑی وجوہات میں ایل نینو اور گرین ہاؤس گیسوں کے مسلسل بڑھتے اخراج کو قرار دے رہے ہیں۔
سمندری پانی کا بڑھتا ہوا درجہ حرارت فضا میں مزید توانائی منتقل کرتا ہے، جو موسم کو زیادہ غیر متوقع اور خطرناک بنا دیتا ہے۔ اسی وجہ سے دنیا کے مختلف خطوں میں شدید ہیٹ ویوز، طاقتور طوفان اور موسلادھار بارشوں کے واقعات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
بین الاقوامی تحقیقی رپورٹس کے مطابق سمندروں کی یہ غیر معمولی گرمی اب صرف ایک عارضی موسمی تبدیلی نہیں رہی بلکہ یہ موسمیاتی تبدیلی کے گہرے اثرات کی واضح علامت بن چکی ہے۔
ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ گرم ہوتے سمندر صرف موسم ہی نہیں بدل رہے بلکہ سمندری حیات بھی شدید خطرات سے دوچار ہے۔ متعدد آبی جاندار اپنے قدرتی مسکن چھوڑنے پر مجبور ہیں، جبکہ سمندر کی سطح میں بتدریج اضافہ ساحلی شہروں کے لیے ایک سنگین وارننگ بنتا جا رہا ہے۔












