تہران ( پاک ترک نیوز) مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر جنگ کے دہانے پر۔ ایران پر امریکی حملے کا خطرہ وقتی طور پر ٹل گیا، مگر خطے میں کشیدگی بدستور برقرار ہے ۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر طے شدہ حملہ مؤخر کرنے کا اعلان کرتے ہوئے امریکی فوج کو الرٹ رہنے کا حکم دے دیا۔
دوسری جانب تہران نے بھی دوٹوک پیغام دیا ہے کہ کسی بھی حملے کا جواب فوری، فیصلہ کن اور طاقتور ہوگا۔دوسری طرف جنگ ٹالنے کیلئے سفارتی رابطے تیز ہو گئے ۔ پاکستان ایک اہم ثالثی کردار ادا کرتا دکھائی دے رہا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر طے شدہ حملہ مؤخر کرنے کا اعلان کر دیا وزیرجنگ اور امریکی فوج کو الرٹ رہنے کا حکم دے دیا ،امریکی صدر کا کہنا ہے آج ایران پر حملہ کرنے والے تھے، قطر، سعودی عرب اور یو اے ای کی قیادت نے روک دیا، ایران کے ساتھ سنجیدہ مذاکرات جاری ہیں،، ضرورت پڑی تو بڑے پیمانے پر حملہ کسی بھی وقت کر سکتے ہیں، وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا، ایران جوہری ہتھیار حاصل نہ کرنے کا معاہدہ کرلے تو ہم شاید مطمئن ہوجائیں گے،، ایران کسی صورت جوہری ہتھیار نہیں رکھ سکتا،، آبنائے ہرمز پر مکمل طور پر ہمارا کنٹرول ہے، ایسا لگتا ہے ایک اچھا موقع ہے ، ایران سے ڈیل ہوسکتی ہے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے امریکا کو کرارا جواب دے دیا ،کہتے ہیں ایران کسی دباؤ، دھمکی کے سامنے نہیں جھکے گا، ہم خوفزدہ ہونے والے نہیں، اپنی سلامتی اور خودمختاری پر بھی کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے امریکا سے گفتگو کا مطلب ہتھیار ڈالنا نہیں۔ایران کسی بھی صورت عوام اور ملک کے قانونی حقوق سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔ ایران کے مفادات اور عزت اور وقار کی حفاظت کریں گے۔ ایران بنیادی مطالبات کے تسلیم کئے جانے تک مذاکرات کی میز پر نہیں آئے گا،، امریکہ نے جنگ مسلط کرکے بھی دیکھ لیا،، اب عوام اور حکومت کے درمیان تفریق پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے،، غزہ پر عالمی برادری کا رویہ دوہرے معیار کی عکاسی کرتا ہے۔
خاتم الانبیا بریگیڈ کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ایران امریکی حملے کے جواب کیلئے تیار ہے،فوج کی انگلیاں ٹریگر پر ہیں ، ،خاتم الانبیا بریگیڈ کا امریکا کو جواب ۔۔۔کہا حملے کی صورت میں فوری، فیصلہ کن، طاقتور جوابی کارروائی کی جائے گی۔امریکا اور اتحادی کسی بھی نئی اسٹریٹجک غلطی یا غلط اندازے کے مرتکب نہ ہوں۔ایران کی مسلح افواج ماضی کے مقابلے میں زیادہ مضبوط اورتیار ہیں ۔ آئندہ کسی بھی غلطی کا سامنا پچھلی فوجی جھڑپوں سے کہیں زیادہ طاقتور ردِعمل سے ہوگا۔
ادھرخطے میں جنگ روکنے کے لئے سفارتی کوششوں میں تیزی ا گئی، ایران کی نئی تجاویز پاکستان کے ذریعے امریکا کو ارسال کر دی گئیں ۔ رپورٹس کے مطابق، 14نکات پر مشتمل نئی تجاویز کا بنیادی مقصد جنگ کا خاتمہ اور اعتماد سازی کو فروغ دینا ہے، ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی کے مطابق تہران اور واشنگٹن کے درمیان بات چیت پاکستان کے ذریعے جاری ہے، پاکستان کلیدی کردار ادا کر رہا ہے، ایران نے اپنی تجاویز پیش کردی ہیں، تہران کی توجہ جنگ کے خاتمہ پر ہے، ایران یورینیم افزودگی کے اپنے حق پر نہ تو کسی قسم کی بات چیت کرے گا اور نہ ہی کوئی سمجھوتہ، حالیہ پیش رفت کےباوجود دونوں ممالک کےدرمیان بنیادی اختلافات برقرار ہیں، تاہم رابطے کا سلسلہ منقطع نہیں ہوا۔
امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی وقتی طور پر کم ضرور ہوئی ہے، لیکن صورتحال اب بھی انتہائی نازک ہے۔۔۔ ایک غلط فیصلہ پورے مشرقِ وسطیٰ کو نئی جنگ میں دھکیل سکتا ہے۔۔۔ دنیا کی نظریں اب سفارتکاری، مذاکرات اور پاکستان کی ثالثی کوششوں پر مرکوز ہیں۔












