
از: سہیل شہریار
پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر جولائی میں 20.03 ارب ڈالر کی 39 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے ہیں۔ یہ خاص طور پر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے ترسیلات زر میں تیزی سے اضافے کے نتیجے میں ہواہے۔ مگرریکارڈ ذخائر کے باوجود پاکستانی روپے کو دباؤ کا سامنا ہے۔ گزشتہ ہفتے یہ انٹربینک میں فی ڈالر 284.56 پر بند ہواجبکہ آج 285.35پر آگیا ہے۔ اوپن مارکیٹ میں ڈالرشرح مبادلہ 288.80 تک پہنچ گئی ہے۔اور اسکی وجہ مارکیٹ مین ڈالرز کی کمیابی بتائی جا رہی ہے۔
گزشتہ ہفتے کے دوران صرف بنک دولت پاکستان کےپاس جمع ڈالروں میں 1.77 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا جو 14.5 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔یہ مارچ 2022 کے بعد کی بلند ترین سطح ہے۔ جبکہ کمرشل بینکوں کے پاس 5.53 ارب ڈالر ہیں۔
https://www.youtube.com/watch?v=pyN4aEeSFvo
ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں میں اس ریکارڈ اضافے کے پیچھے ایک اہم محرک ریکارڈ ترسیلات زر کو قرار دیا جا رہا ہے۔ جس میں مالی سال 2025 کے دوران ریکارڈ اضافہ ہوا اور وہ 38ارب ڈالر سے تجاوز کر گئیں ۔سمندر پار پاکستانیوں کی ترسیلات زر ماہانہ 16فیصد اور سال بہ سال 13.7فیصد کی مضبوط نمو کی عکاسی کرتی ہیں۔
پاکستان کے زرمبادلہ کےذخائر میں تیزی سے بہتری 2023 کے اوائل کی بحرانی سطح سے ایک نمایاں تبدیلی کا اشارہ دیتی ہے۔ جب ادائیگیوں کے شدید توازن کے دباؤ کے درمیان سٹیٹ بنککے ذخائر صرف 2.9 ارب ڈالر تک گر گئے تھے۔
https://www.youtube.com/shorts/qnzkCvAyAlM
اقتصادی ماہرین کا خیال ہے کہ اگر ترسیلات زر کی رفتار برقرار رہتی ہے اور پاکستان اپنے آئی ایم ایف پروگرام کی رفتار کو بھی برقرار رکھتا ہے۔ تو ممکنہ طور پر رواں مالی سال 26 میں سٹیٹ بنک کے ذخائر 20 ارب ڈالر سے اور مجموعی ملکی ذخائر 26ارب ڈالر سے تجاوز کر سکتے ہیں۔
مالی سال 25 میں بڑی مشکل کے بغیر تجارتی قرضوں کو حاصل کرنے کی پاکستان کی صلاحیت کو اس کی آئی ایم ایف کی حمایت یافتہ اصلاحات پر اعتماد قرار دیا گیا۔ جن سے توقع کی جاتی ہے کہ رواں مالی سال میں غیر ملکی فنانسنگ کی حمایت جاری رہے گی۔
پریشان کن امر یہ ہے کہ مالی سال 25 کے دوران بینکوں کو تقریباً 5 ارب ڈالر فروخت کرنے کے باوجود زیادہ تر ایکسچینج کمپنیوں کو ڈالر کی کمی کا سامنا ہے۔ درآمد کنندگان کے علاوہ طلباء، مسافروں اور بیرون ملک علاج کی ضرورت والے مریض بھی بینکوں سے ڈالر حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔مارکیٹ سے وابستہ افراد تشویش کا شکار ہیں کہ اسٹیٹ بینک نے مارکیٹ کو اس قدر سخت کیوں کیا جب کہ اس نے پہلے ہی Iآئی ایم ایفکا ہدف پورا کر لیا ہے۔ کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس برقرارہے اور تمام بیرونی قرضوں کی ادائیگی کی جا چکی ہے۔انکی رائے ہے کہ مارکیٹ میں نرمی ہونی چاہیے خاص طور پر درآمد کنندگان کے لیے۔ کیونکہ اقتصادی ترقی کے لیےدرآمدات بھی ضروری ہیں۔












