انقرہ ( پاک ترک نیوز) امریکی سرمایہ کاری بینک گولڈمین سیکس نے پیش گوئی کی ہے کہ ترکیہ کی حکومت مہنگائی پر قابو پانے کے بجائے بیرونی مالیاتی توازن کو ترجیح دیتے ہوئے ترک لیرا کی قدر میں نسبتاً تیز کمی کی اجازت دے سکتی ہے۔
بینک کے ماہرین اقتصادیات کلیمنس گرافے اور باسک ایڈزگل کی جانب سے جاری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امکان ہے کہ ترک لیرا امریکی ڈالر کے مقابلے میں سالانہ بنیاد پر 20 فیصد سے زائد، یعنی تقریباً 25 فیصد کی رفتار سے کمزور ہو سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اگرچہ لیرا کی قدر میں تیزی سے کمی مہنگائی میں کمی کے عمل کو سست کر سکتی ہے، تاہم ترکیہ کے لیے بیرونی ادائیگیوں کے توازن اور برآمدات کو سہارا دینا اس وقت زیادہ اہم ترجیح بن چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 6ماہ کے دوران 1.1ملین سے زائد پروازوں کا ترکیہ کی فضائی حدود کا استعمال
گولڈمین سیکس کا کہنا ہے کہ اگر حکومت لیرا کو مزید کمزور ہونے دیتی ہے تو اس سے ترک برآمدات کو عالمی منڈی میں مسابقت حاصل ہو سکتی ہے، تاہم درآمدی اشیا مہنگی ہونے کے باعث مہنگائی پر دباؤ برقرار رہنے کا خدشہ بھی موجود ہے۔












