Monday , 27 July , 2026
  • Login
پاک ترک نیوز
  • Homepage
  • Latest
  • Pakistan
  • Turkey
  • World
  • game
  • Economy
  • Columns/Blogs
  • Technology
  • Education and health
No Result
View All Result
  • Homepage
  • Latest
  • Pakistan
  • Turkey
  • World
  • game
  • Economy
  • Columns/Blogs
  • Technology
  • Education and health
No Result
View All Result
پاک ترک نیوز
No Result
View All Result
Home Latest

پاکستان نے اپنے ذمہ4.75ارب ڈالر کی بیرونی ادائیگیاں شروع کر دیں

4 months ago
A A
Pakistan has started external payments of $4.75 billion on its own responsibility.
Share on FacebookWhatsApp

از: سہیل شہریار

پاکستان نے رواں مالی سال 2025-26کے اختتام تک اپنے ذمہ مجموعی طور پر 4 ارب 75 کروڑ ڈالر کی بیرونی دائیگیاں کرناشروع کر دی ہیں۔ان میں ایک ارب 30کروڑ ڈالر کی رقم یورو بانڈزاور 3 ارب 45 کروڑ ڈالر کی خطیر رقم متحدہ عرب امارات کے قرض پر مشتمل ہے۔
وزارت خزانہ کے ذرائع کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق پاکستان نے اپنے جاری کردہ یورو بانڈز کی دس سالہ مدت مکمل ہونے پر 8اپریل کو انکی ایک ارب 30کروڑ ڈالر کی مکمل ادائیگی کر دی ہے ۔اور ساتھ ہی متحدہ عرب امارات کو 3.45 ارب ڈالر قرض میں سے ابتدائی 45کروڑ ڈالر کی ا دائیگی بھی کر دی ہے۔ متحدہ عرب امارات کی جانب سے پاکستان کے ادائیگیوں کے توازن کو مستحکم کرنے میں مدد کے لیے 2 ارب ڈالر کی رقم 2018-19میں بیرونی مالی معاونت کےحصہ کے طور پر فراہم کی گئی تھی اور 2023 میں مزید ایک ارب ڈالر کے ڈپازٹس فراہم کیے گئے تھے۔ جنکی ادائیگی باقی ہے اور اس قرضے پر پاکستان سالانہ 6.5 فیصد شرح سود ادا کر رہا تھا۔


وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق گذشتہ ایک سال کے دوران ابوظہبی نے رقم کی فوری واپسی کا مطالبہ کرتے ہوئے قرضے کی تجدید کا عمل روک رکھا ہے ۔اور اس میں ماہانہ بنیاد پر توسیع کی جارہی ہے۔ چنانچہ حکومت نے متحدہ عرب امارات کے قرض کی مکمل رقم فوری ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس میں سے 45کروڑ ڈالر کی ادائیگی کے بعد اب 2ارب ڈالر کی رقم 17اپریل کو اداکر دی جائے گی ۔جبکہ بقایا ایک ارب ڈالر بھی ایک ہفتے کے بعد 23اپریل کو ادا کر دئیے جائیں گے۔
اپنے جاری آئی ایم ایف پروگرام کے تحت نہ صرف پاکستان کو اپنے زر مبادلہ کے ذخائر کو برقرار رکھنا ہے بلکہ آئندہ مالی سال میں انہیں موجودہ 16.4ارب ڈالر سے 18ابر ڈالر تک لے جانا ہے۔ چنانچہ زر مبادلہ کے ذخائر کی سطح کو برقرار رکھنے اور بیرونی فنانسنگ کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے پاکستان کو اپنے تین اہم د وستوں چین، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے تقریباً 12.5 ارب ڈالر کے رول اوور کی ضرورت تھی۔ تاہم ابو ظہبی کی جانب سے رقم کی واپسی کے مطالبے پر رقم کی فوری واپسی کا سخت فیصلہ کیا گیا ہے ۔ حالانکہ اس سےملک کے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کو نمایاں طور پر کمی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔


سٹیٹ بنک آف پاکستان کےتازہ اعداد و شمار کے مطابق مرکزی بینک کے ذخائر تقریباً 16.4 ارب ڈالر ہیں۔جن میں سے ساڑھے3 ارب ڈالر کی واپسی سے ان میں 18فیصد کی کمی واقع ہو جائے گی۔ جس سے بیرونی بفر اور درآمدی کور نمایاں طور پر کمی کا سامنا ہو گا۔
اقتصادی ماہرین کا خیال ہے کہ یورو بانڈ کے ایک ارب 30کروڑ ڈالر کی مکمل ا دائیگی کے بعد اسی ماہ میں متحدہ عرب امارات کے قرض کی واپسی روپے پر دباؤ بڑھا سکتی ہے ۔ اور اگر فوری طور پر دوست ملکوں اور مالیاتی اداروں سے تازہ رقوم حاصل نہ کی گئیں تویہ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت پاکستان کی پوزیشن کو مزید پیچیدہ کر سکتی ہے۔
اسی ضمن میں وزارت خزانہ نے کہا ہےکہ وہ مستحکم زرمبادلہ کے ذخائر کو یقینی بنانے کے لیے پاکستان کے بیرونی بہاؤ کی مسلسل نگرانی اور انتظام کر رہی ہے۔اورحکومت پاکستان اپنی تمام بیرونی ذمہ داریوں کو بر وقت پورا کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

Tags: #loanbondsdollar
ShareSend

Related Posts

Further depreciation of the Turkish lira is likely
Latest

ترک لیرا کی قدر میں مزید کمی کا امکان

21 July , 2026
State Bank of Pakistan's foreign exchange reserves decrease by $1.245 billion
Latest

اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 1.245 ارب ڈالر کی کمی

17 July , 2026
Major progress in Türkiye's policy to reduce reliance on the dollar.
Latest

ترکیہ کی ڈالر سے انحصار کم کرنے کی پالیسی میں بڑی پیش رفت

11 July , 2026
State Bank's foreign exchange reserves increase by $1.94 billion.
Latest

اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 1.94 ارب ڈالر کا اضافہ

July 10, 2026
Trump says $300 million aid to Iran is a lie
Latest

ایران کو 300ملین ڈالر دینے کی بات جھوٹ ہے ،ٹرمپ

16 June , 2026
US passes $1.14 trillion military spending bill
Latest

امریکا ،1.14 ٹریلین ڈالر کے فوجی اخراجات کا بل منظور

28 May , 2026
Next Post
Ceasefire in the Middle East, air operations resume from Pakistan

مشرق وسطیٰ میں جنگ بندی،پاکستان سے فضائی آپریشن بحال

Read this too

کشمور ہو یا کشمیر، کسی کواپنے حق پر ڈاکہ نہیں ڈالنے دینگے ،بلاول بھٹو

کشمور ہو یا کشمیر، کسی کواپنے حق پر ڈاکہ نہیں ڈالنے دینگے ،بلاول بھٹو

26 July , 2026
یوکرین کو جہاز پر حملے کا جواب دیا جائے گا، ایران کی دھمکی

یوکرین کو جہاز پر حملے کا جواب دیا جائے گا، ایران کی دھمکی

26 July , 2026
بحیرہ احمر میں حوثیوں کے حملے ایرانی ایجنڈے کی تکمیل ہیں، یمنی وزیراعظم

بحیرہ احمر میں حوثیوں کے حملے ایرانی ایجنڈے کی تکمیل ہیں، یمنی وزیراعظم

26 July , 2026
آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکر بارودی سرنگ سے ٹکرا کر تباہ

آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکر بارودی سرنگ سے ٹکرا کر تباہ

26 July , 2026
لاہور میں زیر زمین ٹینکوں میں لاکھوں گیلن بارش کا پانی ذخیرہ ، حکام کا دعویٰ

لاہور میں زیر زمین ٹینکوں میں لاکھوں گیلن بارش کا پانی ذخیرہ ، حکام کا دعویٰ

26 July , 2026

About Us

"Pak Turk News is an unbiased Urdu news website committed to delivering timely and authentic reports, analyses, and feature articles on important news from Pakistan, Turkey, and around the world to its Urdu-speaking readers. We offer a new perspective on Pak-Turk relations, global politics, economy, culture, and social issues, enabling readers to stay informed, conscious, and influential.

  • Homepage
  • Pakistan
  • Latest
  • Turkish
  • World
  • About Us
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Declaration of non-attachment
  • Contact

Follow us on social media

Facebook Twitter Instagram Youtube

Copyright 2026 © All publishing rights reserved by Pak Turk News. Reproduction without permission is prohibited.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Homepage
  • Latest
  • Pakistan
  • Turkey
  • World
  • game
  • Economy
  • Columns/Blogs
  • Technology
  • Education and health

Copyright 2026 © All publishing rights reserved by Pak Turk News. Reproduction without permission is prohibited.

English
Urdu