Sunday , 26 July , 2026
  • Login
پاک ترک نیوز
  • Homepage
  • Latest
  • Pakistan
  • Turkey
  • World
  • game
  • Economy
  • Columns/Blogs
  • Technology
  • Education and health
No Result
View All Result
  • Homepage
  • Latest
  • Pakistan
  • Turkey
  • World
  • game
  • Economy
  • Columns/Blogs
  • Technology
  • Education and health
No Result
View All Result
پاک ترک نیوز
No Result
View All Result
Home Latest

گرین لینڈ کے وسائل کی امریکی لوٹ مار کے سو سال

6 months ago
A A
One hundred years of American plunder of Greenland's resources
Share on FacebookWhatsApp

از: سہیل شہریار

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ اصرار کہ امریکہ گرین لینڈ کو حاصل کرے گا "چاہے وہ اسے پسند کریں یا نہ کریں” امریکہ اور آرکٹک کے سب سے بڑے جزیرے کے درمیان ہم آہنگ اور اکثر پیچیدہ تعلقات کا تازہ ترین باب ہے – جو ایک صدی سے زیادہ پر محیط ہے۔مگر آج تلخ حالات سے گزر رہا ہے۔امریکی صدر کا اصرار ہے کہ گرین لینڈ امریکی سلامتی کے لئے ناگزیر ہے اور یہ بھی کہ امریکہ کو دوسری جنگ عظیم کے بعد اسے خالی نہیں کرنا چاہیے تھا۔
14 جنوری 2026 کو، امریکی، ڈنمارک اور گرین لینڈ کے حکام نے ٹرمپ کے تبصروں پر بات کرنے کے لیے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کی۔ ڈنمارک کے وزیر خارجہ نے بعد میں صحافیوں کو بتایا کہ جب کہ دونوں فریقوں میں "بنیادی اختلاف” ہے، وہ "بات چیت جاری رکھیں گے۔ اور یہ بھی کہ گرین لینڈ نے ڈنمارک کے ساتھ رہنے کے اپنے فیصلے کے بارے میں امریکی حکام کو آگاہ کر دیا ہے۔
1894 میں، اس نے چھ گرین لینڈرز کو اپنے ساتھ نیویارک آنے پر راضی کیا، مبینہ طور پر ان سے بدلے میں اوزار اور ہتھیار دینے کا وعدہ کیا۔ چند مہینوں میں، دو کے علاوہ تمام انوئٹ بیماریوں سے مر گئے۔
1894 میں سب سے پہلے امریکی بحریہ کا ایک افسر، رابرٹ پیری اس برفانی جزیرے تک پہنچا۔ اس نے چھ گرین لینڈرز کو اپنے ساتھ نیویارک آنے پر راضی کیا۔اور مبینہ طور پر ان سے بدلے میں اوزار اور ہتھیار دینے کا وعدہ کیا۔ چند مہینوں میں، دو کے علاوہ تمام انوئٹ بیماریوں سے مر گئے۔
تب پیری اپنے ساتھ کیپ یارک کے لوہے کے میٹیورائٹ کے تین بڑے ٹکڑے بھی لائے۔ یہ دھات کا ایک انوکھا ذریعہ تھا جسے گرین لینڈر ز صدیوں سے اوزار بنانے کے لیے استعمال کر رہےتھے۔ ان میں سب سے بڑا ٹکڑا، 34 ٹن وزنی تھا۔ آج یہ امریکن میوزیم آف نیچرل ہسٹری میں پڑا ہے۔ جسے عجائب گھر نے پیری سے 40ہزار ڈالر میں خریدا تھا۔چنانچہ امریکہ کی جانب سے گرین لینڈ کی معدنیات کی لوٹ مار کا سلسلہ ایک صدی سے زیادہ پرانا ہے۔


دوسری جنگ عظیم میں گرین لینڈ کوجنگی حکمت عملی کے تحت امریکی فوج کے لیےاہم بنا دیا ۔جس کے نتیجے میں 1941 کے موسم بہار میں ڈنمارک نے ایک معاہدے پر دستخط کیے جس کے تحت امریکی فوج کو گرین لینڈ تک رسائی دی گئی تاکہ جزیرے کو نازی جرمنی سے بچانے اور یورپ میں جاری جنگ میںاتحادی افواج کی مدد کی جا سکے۔ وہ معاہدہ آج بھی نافذ العمل ہے۔تب سینکڑوں امریکی فوجیوں کو جنوبی گرین لینڈ کے ساحل پر واقع ایک دور افتادہ قصبے ایو ی ٹوٹ میں تعینات کیا گیا تھا۔ جہاں انہوں نے ایلومینیم کو گلانےکے لئے استعمال کئے جانے والے عنصر کرائیولائٹ کی دنیا کی سب سے بڑی کان کا کنٹرول سنبھالا ۔اور امریکہ نے اس سے جی بھر کر کرائیولائٹ نکالا۔
امریکہ اور ڈنمارک نے گرین لینڈ میں ارضیاتی سروے کیے ہیں اور چٹانی، بے نقاب ساحلوں کے ساتھ اہم معدنیات کے ذخائر کی نشاندہی کی ہے۔ تاہم، اب تک کی زیادہ تر کان کنی صرف کرائیولائٹ، سیسہ، لوہے، تانبے اور زنک کے چھوٹے پیمانے پر نکالنے تک محدود رہی ہے۔ جبکہ آج کل معدنی اینارتھوسائٹ نکالنے والی صرف ایک چھوٹی کان چل رہی ہے۔


گرین لینڈ کے فوجی مقاصد کے لئے استعمال کی معراج سرد جنگ کے دوران 1950 کی دہائی تھی۔ جب آرکٹک پر سوویت میزائلوں اور بمبار طیاروں کی آمد کے خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے امریکہ نے تقریباً 5,000 فوجی، 280,000 ٹن سامان، 500 ٹرک اور 129 بلڈوزر شمال مغربی گرین لینڈ کے ساحل پر ماسکو کے شمال مغرب میں 2,752 میل کے فاصلے پراتارے ۔ اس نے امریکہ اور نیٹو کے مشترکہ منصوبے پراجیکٹ آئس ورم کو جنم دیا۔جس کے لئے امریکی فوج نے برف کی چادر کے اندر گہری خندقیں کھود کر اور پھر انہیں برف سے ڈھانپ کر ایٹمی طاقت سے چلنے والا اڈہ بنایا ۔ جسے کیمپ سنچری کا نام دیا گیا۔اور وہ 1966تک فعال رہا۔ اس کیمپ کا ہزاروں ٹن فضلہ برف کی چادر کے اندر رہ گیا۔ جو آج برف کی چادر کی سطح سے 100 فٹ سے زیادہ نیچے ہے۔
دولت اور امریکی سلامتی کے ذرائع کے طور پر جزیرے پر امریکی کنٹرول کے ٹرمپ کے مطالبات بھی اسی طر ح قلیل مدتی ہیں۔ آج کی تیزی سے گرم ہوتی ہوئی آب و ہوا میں گرین لینڈ میںدرجہ حرارت کی تبدیلی کے ڈرامائی اثرات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔کیونکہ انسانیت کے لیے گرین لینڈ کی سب سےزیادہ اہمیت اس کا اسٹریٹجک مقام یا معدنی وسائل نہیں بلکہ اس کی برف ہے۔
ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ اگر انسانی سرگرمیاں کرہ ارض کو اسی طرح گرم کرتی رہیںاور گرین لینڈ کی برف کی چادر پگھلتی رہی تو سمندر کی سطح انتہائی بلند ہو جائے گی ۔ اس جزیرے کی برف کی چادر کا ایک حصہ بھی کھو دینا جس میں عالمی سطح پر سطح سمندر کو 24 فٹ بلند کرنے کے لیے کافی پانی موجود ہے۔دنیا بھر کے ساحلی شہروں اور جزیروں کے ممالک کو تباہ کر دے گا۔
چنانچہ آج سب سے اہم حکمت عملی یہ ہے کہ گرین لینڈ کی برف کی چادر کی حفاظت کی جائے بجائے اس کے کہ اس آرکٹک جزیرے کو لوٹنے کے منصوبے بنائےجائیں۔

Tags: americadonaldtrumpGreenlandmineralstrump
ShareSend

Related Posts

Trump's request to limit voting by mail rejected
Latest

ڈاک کے ذریعے ووٹنگ محدود کرنے سے متعلق ٹرمپ کی درخواست مسترد

26 July , 2026
Trump's formidable plan against Iran Deployment of electronic warfare aircraft.
Latest

ٹرمپ کا ایران کیخلاف خوفناک منصوبہ ،برقی جنگی طیاروں کی تعیناتی

26 July , 2026
US President announces halt to attack on Iran.
Latest

امریکی صدر کا ایران پر حملے روکنے کا اعلان

26 July , 2026
The Gordie Howe Bridge between Canada and the United States has opened to traffic.
Latest

کینیڈا اور امریکا کے درمیان گورڈی ہاؤ برج ٹریفک کے لیے کھل گیا

25 July , 2026
US President Donald Trump confirms talks with Iran.
Latest

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران سے بات چیت کی تصدیق

25 July , 2026
چین ،روس ایران کے ساتھ جنگ میں شامل ہوئے تو بہت برا ہو گا،ٹرمپ
Most important

چین ،روس ایران کے ساتھ جنگ میں شامل ہوئے تو بہت برا ہو گا،ٹرمپ

24 July , 2026
Next Post
Basant preparations accelerate, decision to auction roofs of government schools

بسنت کی تیاریوں میں تیزی، سرکاری سکولوں کی چھتیں نیلام کرنے کا فیصلہ

Read this too

Who will form the government in Azad Kashmir

آزاد کشمیر میں کون بنائے گا حکومت؟

26 July , 2026
Saudi Arabia Precautionary alerts issued for Yanbu and Jazan lifted; the threat has passed.

سعودی عرب: ینبع اور جازان کے لیے جاری احتیاطی الرٹس ختم، خطرہ ٹل گیا

26 July , 2026
TAPI Gas Project A $420 million project has been prepared to supply natural gas to the city of Herat.

تاپی گیس منصوبہ ہرات کے قریب، شہر میں قدرتی گیس کی فراہمی کے لیے 42 کروڑ ڈالر کا منصوبہ تیار

26 July , 2026
China imposes export restrictions on 14 European companies.

چین کی 14 یورپی کمپنیوں پر برآمدی پابندی

26 July , 2026
Trump's request to limit voting by mail rejected

ڈاک کے ذریعے ووٹنگ محدود کرنے سے متعلق ٹرمپ کی درخواست مسترد

26 July , 2026

About Us

"Pak Turk News is an unbiased Urdu news website committed to delivering timely and authentic reports, analyses, and feature articles on important news from Pakistan, Turkey, and around the world to its Urdu-speaking readers. We offer a new perspective on Pak-Turk relations, global politics, economy, culture, and social issues, enabling readers to stay informed, conscious, and influential.

  • Homepage
  • Pakistan
  • Latest
  • Turkish
  • World
  • About Us
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Declaration of non-attachment
  • Contact

Follow us on social media

Facebook Twitter Instagram Youtube

Copyright 2026 © All publishing rights reserved by Pak Turk News. Reproduction without permission is prohibited.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Homepage
  • Latest
  • Pakistan
  • Turkey
  • World
  • game
  • Economy
  • Columns/Blogs
  • Technology
  • Education and health

Copyright 2026 © All publishing rights reserved by Pak Turk News. Reproduction without permission is prohibited.

English
Urdu