Friday , 24 July , 2026
  • Login
پاک ترک نیوز
  • Homepage
  • Latest
  • Pakistan
  • Turkey
  • World
  • game
  • Economy
  • Columns/Blogs
  • Technology
  • Education and health
No Result
View All Result
  • Homepage
  • Latest
  • Pakistan
  • Turkey
  • World
  • game
  • Economy
  • Columns/Blogs
  • Technology
  • Education and health
No Result
View All Result
پاک ترک نیوز
No Result
View All Result
Home Latest

اسرائیل کی غزہ اور مشرق وسطی میں جارحیت ،امریکی مالی امداد کے بغیر ناممکن

10 months ago
A A
اسرائیل کی غزہ اور مشرق وسطی میں جارحیت ،امریکی مالی امداد کے بغیر ناممکن
Share on FacebookWhatsApp

از: سہیل شہریار

اکتوبر 2023 سے اب تک امریکہ کی 21 ارب ڈالر سے زیادہ کی جنگی اخراجات کے لئے اہم مالی مدد کے بغیر اسرائیل غزہ اور مشرق وسطیٰ میں اپنی جنگوں کو برقرار نہیں رکھ سکتا تھا۔یہ ہے وہ نتیجہ جو دو معروف امریکی اداروں کی تازہ ترین رپورٹس میں پیش کیا گیا ہے۔
براؤن یونیورسٹی کے کاسٹ آف وار پراجیکٹ اور کونسی انسٹی ٹیوٹ نے مشترکہ طور پر ولیم ہارسی انسٹی ٹیوٹ میں ایک سینئر ریسرچ فیلو ولیم ڈی ہارٹنگ کی تیار کردہ رپورٹ اسرائیل کو امریکی فوجی امداد اور ہتھیاروں کی منتقلی، اکتوبر 2023-ستمبر 2025 جاری کی ہے ۔جس میں بتایا گیا ہے کہ امریکی ہتھیاروں اور پیسے کے بغیر اسرائیل غزہ پر اپنی نسل کشی کی جنگ کو برقرار رکھنے، ایران کے ساتھ جنگ شروع کرنے یا یمن پر بار بار بمباری کرنے کے قابل نہیں ہوتا۔

https://www.youtube.com/watch?v=w-RuArnNW8c&t=5s
رپورٹ کے نتائج کے بارے میںتجزیہ کاروں نے بھی تصدیق کی ہے کہ غزہ اور وسیع خطے میں اسرائیل کی جنگیں امریکی مالی اور سفارتی مدد کے بغیر جاری نہیں رہ سکتی تھیں۔
ہارٹنگ کی رپورٹ بیان کرتی ہےموجودہ اور مستقبل کے اخراجات کے پیمانے کو دیکھتے ہوئے یہ واضح ہے کہ اسرائیلی فوج جنگ میں وہ نقصان نہیں پہنچا سکتی تھی جو اس نے غزہ میں کیا ہے یا اسرائیل امریکی مالی امداد، ہتھیاروں اور سیاسی مدد کے بغیر پورے خطے میں اپنی عسکری سرگرمیاں نہیں بڑھا سکتا تھا۔
ہارٹنگ کی رپورٹ کے ساتھ ہارورڈ کینیڈی اسکول میں بجٹ اور پبلک فنانس کی ماہر لنڈا جے بلمز کی رپورٹ سے پتا چلا ہے کہ امریکہ نے 7 اکتوبر 2023 سے اسرائیل کی فوجی امداد اور خطے میں امریکی فوجی کارروائیو ںمیں 31.35 سے 33.77 ارب ڈالر خرچ کیے ہیں اور یہ گنتی ابھی جاری ہے۔
نئی شائع ہونے والی دونوں رپورٹوں میںشامل اعدادوشماریہ ظاہر کرتے ہیں کہ اسرائیل کے لیے امریکی حمایت نے اسے دو سال تک متعدد محاذوں پر جنگ جاری رکھنے میں کس طرح مدد کی ہے۔ جبکہ حکومتی ذرائع اور تجزیہ کاروں نے رپورٹوں کے نتائج کی تصدیق کی ہے۔
انکا کہنا ہے کہ اسرائیل نے غزہ اور دیگر جگہوں پر ضرورت سے زیادہ مقدار میں آرڈیننس گرا دیا ہے۔اسرائیل مخصوص ہتھیار اور ٹیکنالوجی تیار کرتا ہے۔ لیکن بم نہیں بناتا۔ اس لیے امریکہ کے بغیر وہ ان بموں کو نہیں گرا سکتا تھا۔امریکہ طویل عرصے سے اسرائیل کا پرجوش حمایتی رہا ہے۔ جب بات امریکی غیر ملکی امداد کی ہو تو اسرائیل سب سے بڑا وصول کنندہ ہے۔جسےتقریباً 3.3 ارب ڈالر سالانہ امداد ملتی ہے۔ اور اپنے قیام سے 2022 تک 150 ارب ڈالر سے زیادہ کی سب سے بڑی رقم کا وصول کنندہ ہے۔مزے کی بات یہ ہے کہ امریکہ میں حکومتیں بدلنے کا اسرائیل کے لئے امریکی مالی ، سفارتی اور فوجی امداد پر کبھی کوئی اثر نہیں پڑا۔
ہارٹنگ کی رپورٹ میں خاص طور پر اس بات کا تذکرہ کیا گیا ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن اور ان کے جانشین ڈونلڈ ٹرمپ دونوں کی انتظامیہ نے دسیوں ارب ڈالر کے ہتھیاروں کی فروخت کے معاہدے کیے ہیں۔ جن میں خدمات اور ہتھیار شامل ہیں جن کی ادائیگی تین دہائیوں بعد کی جائے گی۔
لنڈا کی رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ اگرچہ امریکیوں کے پاس کسی بھی جدید ملک کے مقابلے میں سب سے پتلا سماجی تحفظ کا جال ہے۔ مگر کسی نہ کسی طرح ہم ہمیشہ اسرائیل کی مختلف جنگوں میں مدد کرنے کے لیے اربوں ڈالر تلاش کرتے نظر آتے ہیں۔جس نے کبھی گھریلو بجٹ بنانے کی کوشش کی ہے وہ دیکھ سکتا ہے کہ یہ کتنا مضحکہ خیز ہے۔ لیکن یہ امریکی سیاست کی وسیع تر بدعنوانی کا بھی عکاس ہے۔
تاہم اب بہت سے امریکیوں نے اسرائیل کے بارے میں مرکزی دھارے کی پوزیشن سے ہٹنا شروع کر دیا ہے۔ حالیہ مہینوں میں، جیسا کہ اسکالرز نے غزہ میں اسرائیل کے اقدامات کو نسل کشی قرار دیا ہے، امریکہ میں اسرائیل کے بارے میں عوامی تاثر کو شدید تنزلی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اوریہ تاثر امریکی یہودیوں میں بھی بڑھ رہاہے۔ واشنگٹن پوسٹ کے ایک حالیہ سروے کے مطابق، 10 میں سے 4 امریکی یہودیوں کا خیال ہے کہ اسرائیل نسل کشی کر رہا ہے۔ جب کہ 60 فیصد سے زیادہ کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے غزہ میں جنگی جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔
یاد رہے اکتوبر 2023 سے اب تک صرف غزہ پر اسرائیل کی جنگ میں کم از کم 67,160 افرادجاں بحق اور 169,679 زخمی ہو چکے ہیں۔خیال کیا جاتا ہے کہ ہزاروں اب بھی غزہ کی پٹی کے کھنڈرات کے نیچے ہیں۔

Tags: addamericagazahamasisrealmiddleeast
ShareSend

Related Posts

Iran is begging us for a deal Marco Rubio.
Latest

ایران معاہدے کے لیے ہم سے بھیک مانگ رہا ہے،مارکو روبیو

23 July , 2026
What did the war with Iran cost the United States
Latest

ایران جنگ امریکہ کو کتنے میں پڑی؟

23 July , 2026
Iran-US war, crude oil more expensive
Latest

ایران امریکہ جنگ ، خام تیل مزید مہنگا

22 July , 2026
US and Iran attack each other
Most important

امریکہ اور ایران کے ایک دوسرے پر حملے

22 July , 2026
Trump announces 50% tariff on Canada.
Latest

ٹرمپ کا کینیڈا پر 50 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا اعلان

21 July , 2026
Iran attacks US facilities in Kuwait, Bahrain, Jordan, Iraq
Latest

ایران کے کویت ،بحرین ،اردن ،عراق میں امریکی تنصیبات پر حملے

21 July , 2026
Next Post
جنوبی افریقا کے خلاف ٹیسٹ سیریز کیلیے قومی ٹیم مینجمنٹ کا اعلان

جنوبی افریقا کے خلاف ٹیسٹ سیریز کیلیے قومی ٹیم مینجمنٹ کا اعلان

Read this too

Daily determination of petroleum product prices is a burden on the public

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا روزانہ تعین عوام پر بھاری

24 July , 2026
The first major setback to the electoral alliance of the Muslim Conference and the Stability Pakistan Party

مسلم کانفرنس اور استحکام پاکستان پارٹی کے انتخابی اتحاد کو پہلا بڑا دھچکا

24 July , 2026
US attacks on Iran for the thirteenth consecutive night.

امریکہ کے ایران پر مسلسل تیرہویں رات حملے

24 July , 2026
ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں 59لاکھ ڈالر کی کمی

ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں 59لاکھ ڈالر کی کمی

23 July , 2026
آئی ٹی کے شعبے میں تربیت کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا،وزیراعظم

آئی ٹی کے شعبے میں تربیت کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا،وزیراعظم

23 July , 2026

About Us

"Pak Turk News is an unbiased Urdu news website committed to delivering timely and authentic reports, analyses, and feature articles on important news from Pakistan, Turkey, and around the world to its Urdu-speaking readers. We offer a new perspective on Pak-Turk relations, global politics, economy, culture, and social issues, enabling readers to stay informed, conscious, and influential.

  • Homepage
  • Pakistan
  • Latest
  • Turkish
  • World
  • About Us
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Declaration of non-attachment
  • Contact

Follow us on social media

Facebook Twitter Instagram Youtube

Copyright 2026 © All publishing rights reserved by Pak Turk News. Reproduction without permission is prohibited.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Homepage
  • Latest
  • Pakistan
  • Turkey
  • World
  • game
  • Economy
  • Columns/Blogs
  • Technology
  • Education and health

Copyright 2026 © All publishing rights reserved by Pak Turk News. Reproduction without permission is prohibited.

English
Urdu