لاہور( پاک ترک نیوز) کیا فٹبال کے بڑے فیصلے صرف میدان میں ہوتے ہیں یا پھر ان کے پیچھے بھی کوئی کہانی چھپی ہوتی ہے؟ ایک الجزائری اسپورٹس تجزیہ کار کے متنازع بیان نے سوشل میڈیا پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
ارجنٹینا اور الجزائر کے درمیان ہونے والے میچ میں لیونل میسی نے شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے ہیٹ ٹرک مکمل کی، تاہم میچ کا ایک لمحہ تنازع کا مرکز بن گیا۔
میچ کے دوران میسی اور الجزائر کے دفاعی کھلاڑی عیسیٰ مندی کے درمیان سخت ٹکراؤ ہوا۔ بعض ناقدین کا خیال تھا کہ اس واقعے پر زیادہ سخت کارروائی ہونی چاہیے تھی، لیکن ریفری نے صرف فری کک دے کر کھیل جاری رکھا۔
یہ بھی پڑھیں: فاسٹ فوڈ کھانے پر پاکستان ویمن ٹیم تنقید کی زد میں آ گئی
اس فیصلے کے بعد الجزائر کی جانب سے فیفا میں شکایت بھی دائر کی گئی، تاہم اصل تنازع اس وقت سامنے آیا جب الجزائری تجزیہ کار مصطفیٰ مزوزی نے ایک ٹی وی پروگرام میں دعویٰ کیا کہ میسی کو عالمی سطح پر بااثر حلقوں کی حمایت حاصل ہے، جس کی وجہ سے بعض فیصلے ان کے حق میں جاتے ہیں۔
مزوزی نے اپنے مؤقف کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا، جبکہ ان کے بیان پر سوشل میڈیا پر شدید ردعمل دیکھنے میں آیا۔ بعض صارفین نے اسے بے بنیاد قرار دیا تو کچھ نے ریفری کے فیصلے پر سوالات اٹھائے۔
دوسری جانب فیفا، لیونل میسی یا کسی بھی متعلقہ ادارے کی جانب سے ان دعوؤں کی تصدیق نہیں کی گئی، اور نہ ہی کوئی قابلِ اعتماد ثبوت سامنے آیا ہے جو ان الزامات کی حمایت کرتا ہو۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ محض ایک متنازع ریفری فیصلہ تھا یا پھر یہ بیان فٹبال کی دنیا میں ایک نئے تنازع کو جنم دے گا؟












