ماسکو: (پاک ترک نیوز)سوشل میڈیا پر ایک تہلکہ خیز دعویٰ گردش کر رہا ہے کہ روسی خفیہ ادارے KGB کے سابق افسران نے انکشاف کیا ہے کہ سی آئی اے، موساد اور ایم آئی 6 نے حال ہی میں ایک انتہائی خفیہ اور پراسرار “پنڈورا باکس” کو انٹارکٹیکا منتقل کیا ہے۔
دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اگر یہ باکس کھولا گیا تو دنیا بھر میں مہلک خفیہ ہتھیار متحرک ہو سکتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کیا واقعی ایسا کچھ ہو رہا ہے، یا یہ ایک نفسیاتی جنگ کا حصہ ہے؟
انٹارکٹیکا، جو بظاہر برف اور خاموشی کی سرزمین ہے، کئی دہائیوں سے عالمی طاقتوں کی سائنسی اور اسٹریٹجک دلچسپی کا مرکز رہا ہے۔ مختلف ممالک وہاں ریسرچ اسٹیشن قائم کیے ہوئے ہیں، مگر سازشی نظریات کے مطابق برف کے نیچے خفیہ تنصیبات اور پراسرار ٹیکنالوجیز چھپی ہو سکتی ہیں۔
تاہم اب تک کسی معتبر عالمی ادارے یا مستند ذریعے نے “پنڈورا باکس” جیسی کسی چیز کی موجودگی کی تصدیق نہیں کی۔
مزید دعویٰ یہ بھی کیا جا رہا ہے کہ امریکا، اسرائیل اور برطانیہ۔ ایران، شمالی کوریا، چین اور روس کے خلاف اپنے “انتہائی خفیہ ہتھیار” استعمال کرنے پر غور کر رہے ہیں۔
دفاعی ماہرین کے مطابق بڑی طاقتیں جدید سائبر وارفیئر، الیکٹرانک سسٹمز اور خلائی ٹیکنالوجی پر کام ضرور کر رہی ہیں، لیکن ایسے کسی مخصوص خفیہ باکس یا عالمی تباہی پھیلانے والے نظام کے شواہد منظر عام پر نہیں آئے۔
یہ بھی ممکن ہے کہ اس قسم کی خبریں طاقت کے توازن کو متاثر کرنے یا مخالف ممالک پر نفسیاتی دباؤ ڈالنے کے لیے پھیلائی جا رہی ہوں۔ آج کی جنگ صرف میدان میں نہیں بلکہ معلومات اور خوف کے محاذ پر بھی لڑی جاتی ہے۔
حقیقت کیا ہے؟ کیا واقعی انٹارکٹیکا میں کوئی خفیہ راز دفن ہے؟ یا یہ سب افواہوں کا جال ہے؟ فیصلہ آپ خود کریں، مگر ہر خبر کو تحقیق کی کسوٹی پر ضرور پرکھیں۔












