تہران/واشنگٹن :(پاک ترک نیوز)مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی ایک بار پھر عروج پر دکھائی دے رہی ہے۔ امریکی ذرائع کے مطابق واشنگٹن نے بیک وقت سینکڑوں فضائی حملے کرنے کی صلاحیت حاصل کر لی ہے اور دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ایک ہی دن میں 800 تک اہداف کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ دفاعی مبصرین اسے محض عسکری تیاری نہیں بلکہ نفسیاتی دباؤ کی حکمت عملی بھی قرار دے رہے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق امریکی بحری بیڑا ایران کے قریب تعیناتی بڑھا رہا ہے اور فاصلہ کم ہو کر تقریباً 240 کلومیٹر رہ گیا ہے۔ خطے میں موجود طیارہ بردار بحری جہاز USS Abraham Lincoln پر قریباً 80 جنگی طیارے موجود ہیں جن میں جدید F-35C بھی شامل ہیں۔ اسی طرح جدید ترین کیریئر USS Gerald R. Ford بھی خطے کی جانب بڑھ رہا ہے، جس پر اندازاً 90 کے قریب طیارے تعینات کیے جا سکتے ہیں۔
اس کے علاوہ اردن میں امریکی فضائی اڈوں پر F-15 ایگل طیارے بھی موجود ہیں جو تیز رفتار اور گہرے حملوں کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کسی ممکنہ کارروائی کا آغاز ہوتا ہے تو F-18، F-16، F-15 اور F-35 طیاروں کو بیک وقت استعمال کیا جا سکتا ہے، جبکہ بڑی تعداد میں ڈرونز بھی کارروائی کا حصہ بن سکتے ہیں۔
دوسری جانب ایران کی دفاعی تیاریوں کا بھی ذکر کیا جا رہا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ چین کا جدید YLC-8B ریڈار سسٹم، جسے بعض ماہرین “اسٹیلتھ کلر” قرار دیتے ہیں، ایران کے پاس موجود ہے۔ یہ ریڈار مبینہ طور پر اسٹیلتھ طیاروں کی نشاندہی کی صلاحیت رکھتا ہے، جو امریکی فضائی برتری کے لیے چیلنج بن سکتا ہے۔
عسکری ماہرین کے مطابق جدید جنگ صرف ہتھیاروں تک محدود نہیں ہوتی بلکہ اس میں نفسیاتی حکمت عملی اور اطلاعاتی جنگ بھی شامل ہوتی ہے۔ ایک دن میں 800 سے زائد حملوں کی صلاحیت کا اعلان بھی ممکنہ طور پر اسی دباؤ کی پالیسی کا حصہ ہو سکتا ہے تاکہ مخالف فریق پر ذہنی برتری قائم کی جا سکے۔
فی الحال خطے میں حالات انتہائی حساس ہیں اور دونوں جانب سے طاقت کے اظہار کے ساتھ ساتھ سفارتی سرگرمیاں بھی جاری ہیں۔ صورتحال کس رخ اختیار کرے گی، یہ آنے والے دنوں میں واضح ہوگا۔












