تل ابیب:(پاک ترک نیوز) اسرائیلی سیکیورٹی اداروں نےدعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران ایرانی ہیکرز کی جانب سے کیے گئے سینکڑوں سائبر حملوں کو ناکام بنا دیا گیا ہے۔
یہ حملے اعلیٰ سرکاری و دفاعی عہدیداروں، ماہرینِ تعلیم اور صحافیوں کو نشانہ بنانے کے لیے کیے گئے تھے۔ اسرائیل کی داخلی سیکیورٹی ایجنسی شن بیت (Shin Bet) اور نیشنل سائبر ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے جاری مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ جون 2025 میں ایران کے ساتھ 12 روزہ جنگ کے بعد ایرانی انٹیلی جنس کی جانب سے اسرائیلی شہریوں کے نجی گوگل اکاؤنٹس ہیک کرنے کی کوششوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
بیان کے مطابق ان حملوں کا مقصد ذاتی اور پیشہ ورانہ معلومات حاصل کرنا تھا، جنہیں دہشت گردی، جاسوسی اور اثرانداز ہونے کی کارروائیوں میں استعمال کیا جا سکتا تھا۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں زیادہ تر “ٹارگٹڈ فشنگ” کے ذریعے کی گئیں، جس میں مخصوص افراد کو ان کی دلچسپی اور پیشے کے مطابق ذاتی نوعیت کے پیغامات بھیجے گئے۔ ایجنسیوں کے مطابق ہیکرز نے بعض اوقات ہدف بنائے گئے افراد کے جاننے والوں کی نقالی کرتے ہوئے پیغامات بھیجے اور سیکیورٹی چیک کے بہانے گوگل، ٹیلیگرام یا واٹس ایپ اکاؤنٹس کے پاس ورڈز اور ویریفکیشن کوڈز حاصل کرنے کی کوشش کی۔
حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ مہینوں میں اس نوعیت کے سینکڑوں حملے بروقت کارروائی کے ذریعے ناکام بنائے گئے۔ اسرائیلی اداروں نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنی سائبر سیکیورٹی مضبوط بنائیں، دو مرحلہ تصدیق (ٹو اسٹیپ ویریفکیشن) فعال کریں، ریکوری ای میل شامل کریں اور اپنے اکاؤنٹس سے منسلک ڈیوائسز کا جائزہ لیں۔
بیان میں خبردار کیا گیا کہ نامعلوم ذرائع سے آنے والے پیغامات پر خصوصی احتیاط برتی جائے اور کسی بھی مشکوک لنک پر کلک کرنے یا ذاتی معلومات فراہم کرنے سے گریز کیا جائے۔
حکام کے مطابق گوگل اور واٹس ایپ نے حال ہی میں حساس معلومات رکھنے والے نمایاں افراد کے لیے اضافی سیکیورٹی فیچرز بھی متعارف کرائے ہیں۔ اسرائیل کے سائبر دفاع کے سربراہ یوسی کارادی نے جنوری میں خبردار کیا تھا کہ ملک کو تیزی سے قریب آتی “سائبر جنگ” کے لیے اپنی تیاری بڑھانا ہوگی۔
ان کے مطابق صرف 2025 کے دوران نیشنل سائبر ڈائریکٹوریٹ نے 26 ہزار سے زائد سائبر حملوں سے نمٹا، جو 2024 کے مقابلے میں 55 فیصد زیادہ ہیں۔ مائیکروسافٹ کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال عالمی سطح پر ہونے والے 3.5 فیصد سائبر حملے اسرائیل کو نشانہ بناتے رہے، جس کے باعث اسرائیل دنیا کا تیسرا سب سے زیادہ متاثرہ ملک قرار پایا۔
یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی عروج پر ہے اور امریکا و ایران کے درمیان مذاکرات جاری ہیں، جبکہ امریکا کی جانب سے ایران پر ممکنہ حملے کی دھمکیاں بھی دی جا رہی ہیں۔ اسی تناظر میں اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے لیے موجود تھے۔












