ڈھاکہ : (پاک ترک نیوز)جنوبی ایشیاء کی اسٹریٹیجک بساط پر ایک خاموش مگر خطرناک چال چل دی گئی، اور اس کا مرکز ہے بنگلادیش۔ بنگلادیش نے ڈرونز کی تیاری کے لیے چین کے ساتھ تاریخی معاہدہ کر لیا۔
بنگلا دیش ایئر فورس اور چائنا الیکٹرانکس ٹیکنالوجی گروپ کارپوریشن کے درمیان طے پانے والا یہ معاہدہ محض ایک دفاعی منصوبہ نہیں، بلکہ پورے خطے کے پاور بیلنس کو بدلنے والا قدم سمجھا جا رہا ہے۔
اس منصوبے میں ٹیکنالوجی کی منتقلی، استعداد کار میں اضافہ، صنعتی مہارتوں میں بہتری اور مشترکہ تکنیکی تعاون شامل ہوگا جس کا مقصد ڈرونز کی تیاری کے شعبے میں طویل مدتی خود انحصاری حاصل کرنا ہے۔
بنگلا دیش کے آئی ایس پی آر کے مطابق یہ معاہدہ گورنمنٹ ٹو گورنمنٹ فریم ورک کے تحت ہوا ہے، جس میں ڈرونز کی پیداوار، اسمبلنگ، اور ٹیکنالوجی ٹرانسفر شامل ہے۔
یعنی بنگلا دیش اب صرف خریدار نہیں رہے گا، بلکہ خود ڈرون بنانے والا ملک بننے جا رہا ہے۔ ابتدائی مرحلے میں بنگلا دیش ایئر فورس ڈرونز تیار کرنے کی صلاحیت حاصل کرے گی، جبکہ مستقبل میں مقامی ڈیزائن کردہ ڈرونز بھی بنائے جائیں گے۔
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ پیشرفت بھارت کے لیے تشویش ناک ہے، کیونکہ ایک طرف چین خطے میں ٹیکنالوجی منتقل کر رہا ہے،دوسری طرف پاکستان پہلے ہی ڈرون اور دفاعی شعبے میں چین کا قریبی شراکت دار ہے۔
یوں چین، پاکستان، بنگلادیش تعاون ایک نیا اسٹریٹیجک بلاک بن کر ابھر رہا ہے۔ یہ ڈرونز صرف فوجی مقاصد تک محدود نہیں ہوں گے بلکہ قدرتی آفات، نگرانی اور امدادی سرگرمیوں میں بھی استعمال ہوں گے۔ مگر پیغام واضح ہے: جنوبی ایشیاء میں طاقت کا توازن اب بدل رہا ہے۔












