لاہور( پاک ترک نیوز) ایپل نے آئی فون کی لانچ حکمتِ عملی میں ایک غیر معمولی تبدیلی کا فیصلہ کر لیا ہ ۔ کمپنی اس بار تمام آئی فون 18 ماڈلز ایک ساتھ متعارف نہیں کرائے گی بلکہ پہلے صرف آئی فون 18 پرو اور آئی فون 18 پرو میکس لانچ کیے جائیں گے، جبکہ عام آئی فون 18 اور آئی فون 18 ایئر کو 2027 کے موسمِ بہار تک مؤخر کر دیا جائے گا۔ ماہرین کے مطابق اس فیصلے کا مقصد مہنگے پرو ماڈلز کی فروخت بڑھا کر کمپنی کی آمدنی اور منافع میں اضافہ کرنا ہے۔
ایپل 12 ستمبر کو آئی فون 18 پرو اور آئی فون 18 پرو میکس متعارف کرانے کی تیاری کر رہا ہے، تاہم اس بار کمپنی کا انٹری لیول آئی فون 18 اور آئی فون 18 ایئر اسی تقریب میں پیش نہیں کیا جائے گا۔ ان دونوں ماڈلز کی لانچ 2027 کے موسمِ بہار تک مؤخر کیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ٹیکنالوجی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تاخیر کسی پیداواری یا سپلائی چین کے مسئلے کا نتیجہ نہیں بلکہ ایپل کی سوچی سمجھی کاروباری حکمتِ عملی ہے۔ کمپنی چاہتی ہے کہ سال کے آخر میں تعطیلات کے دوران زیادہ سے زیادہ صارفین نسبتاً مہنگے پرو ماڈلز خریدیں، کیونکہ ان پر کمپنی کو زیادہ منافع حاصل ہوتا ہے۔
جو صارفین ستمبر میں اپنے پرانے آئی فون کو تبدیل کرنا چاہیں گے، ان کے پاس صرف دو ہی راستے ہوں گے۔ یا تو وہ اپنا موجودہ فون مزید استعمال کریں یا پھر تقریباً 200 ڈالر اضافی ادا کرکے آئی فون 18 پرو خریدیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اس حکمتِ عملی سے ایپل کی اوسط فروختی قیمت میں اضافہ ہوگا، جس سے کمپنی کی آمدنی مزید بہتر ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب ایپل آئی او ایس 27 کے ساتھ اپنی نئی Apple Intelligence اور Siri AI خصوصیات بھی متعارف کرانے جا رہا ہے، جنہیں کمپنی نئی آئی فون سیریز کی سب سے بڑی خصوصیات کے طور پر پیش کرے گی۔ اطلاعات کے مطابق ان جدید مصنوعی ذہانت پر مبنی فیچرز کے مکمل استعمال کے لیے کم از کم 12 جی بی ریم درکار ہوگی، جس کے باعث زیادہ تر پرانے آئی فون صارفین ان سہولیات سے فائدہ نہیں اٹھا سکیں گے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ابتدائی مرحلے میں صرف آئی فون 18 پرو اور آئی فون 18 پرو میکس ہی ایسے ماڈلز ہوں گے جو مقامی سطح پر بڑے اے آئی ماڈلز چلا سکیں گے، جس سے پرو ماڈلز اور عام آئی فون کے درمیان فرق مزید نمایاں ہو جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: آئی فون 18پرومیکس میں نئی ٹیکنالوجی،دنیا میں دھوم مچ گئی
ماہرین کے مطابق عام آئی فون 18 کی عدم دستیابی کا اثر چھٹیوں کے سیزن کی خریداری پر بھی پڑے گا۔ صارفین کے پاس یا تو ایک سال پرانا آئی فون 17 خریدنے کا انتخاب ہوگا یا پھر زیادہ قیمت ادا کرکے آئی فون 18 پرو لینا پڑے گا۔ اس صورتحال میں آئی فون 17 کی قیمت بھی کچھ عرصے تک مستحکم رہنے کا امکان ہے، تاہم 2027 میں آئی فون 18 کی آمد کے بعد اس کی دوبارہ فروخت کی قیمت میں تیزی سے کمی آ سکتی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایپل اس نئی حکمتِ عملی کے ذریعے آئی فون 18 پرو کو اپنی مرکزی پروڈکٹ کے طور پر پیش کرنا چاہتا ہے۔ اگر صارفین نے اس فیصلے کو قبول کر لیا تو کمپنی نہ صرف اپنی آمدنی بلکہ منافع کے مارجن میں بھی نمایاں اضافہ کر سکتی ہے۔
ایپل کی جانب سے عام آئی فون 18 کی لانچ مؤخر کرنے کی اطلاعات نے صارفین اور ٹیکنالوجی ماہرین کی توجہ حاصل کر لی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہوگا کہ کیا صارفین مہنگے پرو ماڈلز کی جانب راغب ہوتے ہیں یا پھر 2027 تک انتظار کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ اس حکمتِ عملی کی کامیابی کا اندازہ آئی فون 18 پرو کی فروخت کے اعداد و شمار سامنے آنے کے بعد ہی ہو سکے گا۔






