واشنگٹن ( پاک ترک نیوز) جدید دور میں جب ہر سال نئی اور تیز رفتار ٹیکنالوجی متعارف ہو رہی ہے، ایسے میں وئجر-1 خلائی جہاز تقریباً نصف صدی گزرنے کے باوجود آج بھی خلا سے زمین کو معلومات بھیج رہا ہے، حالانکہ اس میں نصب کمپیوٹرز کی رفتار آج کے اسمارٹ فونز کے مقابلے میں نہایت کم ہے۔
حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس کا حسابی نظام آج کے عام موبائل فون کے مقابلے میں نہایت کمزور ہے، مگر اس کی پائیداری اور قابلِ اعتماد کارکردگی آج بھی انجینئروں کے لیے مثال بنی ہوئی ہے۔
وائجر ون کو پانچ ستمبر انیس سو ستتر میں خلا میں بھیجا گیا ۔ اس نے مشتری اور زحل کے قریب سے گزر کر اہم معلومات حاصل کیں اور پھر نظامِ شمسی کی سرحد عبور کرتے ہوئے بین النجمی خلا میں داخل ہونے والا دنیا کا پہلا خلائی جہاز بن گیا۔ آج یہ زمین سے پچیس ارب کلومیٹر سے بھی زیادہ فاصلے پر موجود ہے اور مسلسل معلومات بھیج رہا ہے۔
عام طور پر کہا جاتا ہے کہ اس خلائی جہاز کا حسابی نظام ایک سیکنڈ میں تقریباً آٹھ ہزار ہدایات پر عمل کرتا ہے، جبکہ جدید موبائل فون ایک ہی سیکنڈ میں چودہ ارب سے بھی زیادہ ہدایات پر عمل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ تاہم ماہرین کے مطابق یہ موازنہ مکمل طور پر درست نہیں، کیونکہ خلائی جہاز میں ایک نہیں بلکہ مختلف ذمہ داریوں کے لیے الگ الگ حسابی نظام نصب ہیں اور ان کی رفتار بھی ایک جیسی نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: مریخ پر قدیم زندگی کے اب تک کے مضبوط ترین شواہد؟
اس خلائی جہاز میں تین بنیادی حسابی نظام موجود ہیں۔ پہلا نظام زمین سے بھیجی جانے والی ہدایات وصول کرکے ان پر عمل درآمد کرتا ہے۔ دوسرا نظام خلائی جہاز کی سمت درست رکھتا ہے تاکہ اس کا مواصلاتی اینٹینا ہر وقت زمین کی جانب رہے۔ تیسرا نظام سائنسی آلات سے حاصل ہونے والی معلومات جمع کرتا، انہیں ترتیب دیتا اور زمین تک بھیجنے کے قابل بناتا ہے۔
ہر بنیادی نظام کا ایک اضافی متبادل بھی موجود ہے تاکہ کسی خرابی کی صورت میں دوسرا نظام فوری طور پر کام سنبھال سکے۔ تمام نظاموں کی مجموعی یادداشت صرف تقریباً اڑسٹھ کلو بائٹ ہے، جو آج کے دور کے نہایت معمولی برقی آلات سے بھی کم ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس خلائی جہاز کی اصل کامیابی اس کی رفتار نہیں بلکہ اس کا مخصوص اور سادہ ڈھانچہ ہے۔ ہر حسابی نظام صرف اپنی مقررہ ذمہ داری انجام دیتا ہے، جس کی وجہ سے کم وسائل کے باوجود پورا خلائی جہاز مؤثر انداز میں کام کرتا رہتا ہے۔
سائنسی معلومات جمع کرنے والا حسابی نظام نسبتاً زیادہ تیز رفتار ہے اور پرواز کے آغاز پر ایک سیکنڈ میں تقریباً اسی ہزار ہدایات پر عمل کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا، جبکہ باقی نظام نسبتاً سست رفتار تھے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مختلف کاموں کے لیے مختلف صلاحیتوں والے نظام تیار کیے گئے تھے۔
ماہرین یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ جدید موبائل فون اور اس خلائی جہاز کے حسابی نظام کا براہِ راست موازنہ درست نہیں، کیونکہ دونوں کی ساخت، طریقۂ کار اور مقصد ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔ جدید فون رفتار اور سہولت کے لیے بنائے گئے ہیں، جبکہ یہ خلائی جہاز انتہائی سخت ماحول، تابکاری، شدید سردی اور طویل عرصے تک بغیر کسی مرمت کے کام کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔
یہ خلائی جہاز نہ تو ویڈیوز چلاتا ہے، نہ مختلف پروگرام استعمال کرتا ہے اور نہ ہی انسان کی طرح مسلسل بدلتے ہوئے احکامات پر کام کرتا ہے۔ اس کا کام صرف پہلے سے محفوظ ہدایات پر عمل کرنا، اپنے نظام کی نگرانی کرنا، خرابی کی صورت میں خود حفاظتی اقدامات کرنا، اینٹینا کو زمین کی طرف رکھنا اور سائنسی معلومات بھیجنا ہے، جبکہ باقی تمام منصوبہ بندی اور راستے کا تعین زمین پر موجود بڑے حسابی مراکز کرتے ہیں۔
قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ انجینئر گزشتہ کئی دہائیوں سے زمین پر بیٹھ کر اس کے پروگرام میں تبدیلیاں کرتے رہے ہیں۔ پرانے حصوں کو غیر فعال کیا گیا، نئی ہدایات شامل کی گئیں اور خراب یادداشت کے باوجود نظام کو فعال رکھا گیا، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ رفتار سے زیادہ اہم چیز مضبوط منصوبہ بندی اور قابلِ اعتماد ڈیزائن ہے۔
اب اس خلائی جہاز کے لیے سب سے بڑا مسئلہ اس کی توانائی ہے۔ اس کا توانائی پیدا کرنے والا ذریعہ ہر سال کمزور ہو رہا ہے، جس کے باعث اپریل دو ہزار چھبیس میں ایک اور سائنسی آلہ بند کر دیا گیا تاکہ باقی نظام زیادہ عرصے تک کام کرتے رہیں۔ اس وقت بھی اس کے دو سائنسی آلات فعال ہیں اور وہ بین النجمی خلا سے ایسی معلومات بھیج رہے ہیں جو کسی اور فعال خلائی جہاز کے ذریعے حاصل نہیں کی جا سکتیں۔
ماہرین کے مطابق ووئیجر اوّل اس حقیقت کا زندہ ثبوت ہے کہ کسی بھی خلائی مشن کی کامیابی صرف تیز رفتار نظام پر منحصر نہیں ہوتی، بلکہ درست منصوبہ بندی، مضبوط ساخت، قابلِ اعتماد کارکردگی اور طویل عرصے تک مسلسل کام کرنے کی صلاحیت ہی اصل کامیابی کی بنیاد ہوتی ہے۔








