
از: سہیل شہریار
ترکیہ کا مقامی لڑاکا جیٹ پروگرام منصوبہ بندی کے مطابق آگے بڑھ رہا ہے اور کسی ایک غیر ملکی انجن فراہم کرنے والے پر انحصار نہیں کیا جا رہا۔
یہ ریمارکس اس وقت سامنے آئے جب وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے کہا کہ ترکیہ امریکی ساختہ انجنوں کی فراہمی کے لیے امریکی کانگریس کی منظوری کا انتظار کر رہے ہیں۔جن کی تنصیب کے ساتھ جدید کان جنگی طیاروں کی پہلی کھیپ تیار کی جانی ہے۔اس بیان نے جہاں مغربی اور بھارتی میڈیا کی جانب سے ترکیہ کے پانچویں نسل کے کان طیارے کے پروگرام کے بارے میں افواہوں کی ہوا نکال دی ہے وہیں ۔ایک بار پھر ترکیہ اور امریکہ کے بڑھتے دفاعی تعلقات کو بھی اجاگر کر دیا ہے۔
اس سے پہلےترکیہ نے اپنے پروٹوٹائپ طیاروں کے لیے ضروری تمام انجن پہلے ہی حاصل کر لیے ہیں اوربڑے پیمانے پر تیار کیے جانے والے جیٹ طیاروں کے ابتدائی بلاک کے لیے درکار پاور یونٹس کی خریداری کے لیے امریکہ کو درخواست کا عمل مکمل کر لیا ہے۔
https://www.youtube.com/watch?v=JDIvwvJnHu4&t=3s
ترکیہ کے مقامی طور پر تیار کئے جا رہے فلیگ شپ انجن ٹی ایف 35000، پر کام شیڈول کے مطابق جاری ہے۔جبکہ بڑے پیمانے پر پیداوار کی منصوبہ بندی غیر ملکی انجن کے ساتھ نہیں بلکہ گھریلو انجن کے ساتھ کی گئی ہے۔چنانچہ کان طیاروں کا مستقبل کسی بھی طرح سے کسی ایک ملک کے انجن پر منحصر نہیں ہے۔
گزشتہ ہفتے صدر رجب طیب اردوان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان وائٹ ہاؤس میں چھ سالوں میں پہلی ملاقات ہوئی تھی۔ جہاں انہوں نے دفاعی تعاون اور تجارت پر تبادلہ خیال کیا تھا۔
ترکیہ واپسی پر اردوان نے بات چیت میں پیشرفت کو سراہا تھا۔ جس میں ترکیہ کی طرف سے لاک ہیڈ مارٹن کےایف۔ 16 لڑاکا طیاروں کی خریداری اور امریکی پابندیوں کے اٹھائے جانے کے ساتھ جدیدایف۔ 35 جنگی طیاروں کی خرید اری ایجنڈے کے اہم نکات میں شامل تھی۔ملاقات سے پہلے اور بعد میں ٹرمپ نے کہا کہ وہ ان پابندیوں کو ہٹا سکتے ہیں جو واشنگٹن نے 2020 میں انقرہ کی طرف سے روسی S-400 میزائل دفاعی نظام کے حصول پر عائد کی تھیں۔ پابندیوں نے ترکیہکو کثیر القومی F-35 پروگرام سے بھی معطل کر دیا جس میں وہ خریدار اورمینوفیکچرر تھا۔جبکہ ان پابندیوں نے انقرہ کو اپنے لڑاکا طیارے پر کام تیز کرنے اور یورو فائٹر ٹائفون جیسے متبادل کو حاصل کرنے کی ترغیب دی۔
ترکیہ کے محکمہ دفاعی پیداوار کے مطابق کان طیارے کے انجن کے حوالے سے موجودہ امریکی ساختہ انجن کا غیر ملکی متبادل تلاش نہیں کر رہا ۔تاہم ضروری ہو ا تو پہلے بلاک کے لیے انجن میں تبدیلیاں کی جا سکتی ہیں۔ انجینئرنگ کی ایڈجسٹمنٹ قابل انتظام ہو گی۔ اور طیارے کی بڑے پیمانے پر تیاری کے شیڈول میں کسی بڑی تبدیلی کا امکان نظر نہیں آتا۔ البتہ یہ طے ہے کہ بالآخر ہمارا ہوائی جہاز ترکیہ کے مقامی انجن کے ساتھ ہی پرواز کرے گا۔












