
از: سہیل شہریار
شبِ برات (15 شعبان کی رات) جو اس برس منگل اور بدھ کی درمیانی شب ہوگی۔ مغفرت، رحمت اور بخشش کی مبارک رات ہے۔ اس رات کا احادیث مبارکہ میں اہم مقام بیان فرمایا گیا ہے۔
نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے کہ اس رات اللہ تعالیٰ آسمانِ دنیا پر نزول فرما کر بنو کلب کی بکریوں کے بالوں سے زیادہ گنہگاروں کی مغفرت فرماتا ہے۔
یہ عبادت، استغفار، نوافل اور دعاؤں کی قبولیت کی رات ہے، جس میں تقدیر کے فیصلے بھی کیے جاتے ہیں۔
اس رات کو قرآنِ حکیم میں ’ لیلۃ مبارکہ‘ اور احادیث مبارکہ میں’ لیلۃ النصف من شعبان‘ کا نام دیا گیا ہے۔ اس رات کو براۃ (نجات) سے تعبیر کرنے کی وجہ یہ ہے کہ اس رات اللہ تعالیٰ اپنی بے پایاں رحمت اور خاص فضل و کرم سے لا تعداد گناہ گاروں کو دوزخ کے عذاب سے چھٹکارا اور نجات عطا فرماتا ہے۔
شبِ برأت کی فضیلت کےبارے میں بہت سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے احادیث مروی ہیں۔ مگر ان میں نمایاں حضرت ابو بکر صدیق، حضرت مولیٰ علی المرتضیٰ، اُم المؤمنین عائشہ صدیقہ، حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص، حضرت معاذ بن جبل، حضرت ابوہریرہ، حضرت ابو موسیٰ اشعری رضوان اللہ علیہم اجمعین وغیرہم کے نام ہیں۔
شب برأت کی فضیلت اس بات سے بھی ثابت ہوتی ہے کہ شروع سے ہی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ، تابعین، اَتباع تابعین نے شبِ برأت کا تذکرہ کیا ہے اور تمام اَئمہ حدیث، بشمول ائمہ صحاح ستہ نےاپنی کتب حدیث میں ’بَابُ مَا جَائَ فِي لَیْلَۃِ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ‘ یعنی شعبان کی پندرہویں رات کے عنوان سے مستقل ابواب بھی قائم کیے ہیں۔
چنانچہ احادیث مبارکہ کی روشنی میں اس رات غروبِ آفتاب سے لے کر فجر تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے مغفرت اور رزق کی طلب کے لیے خصوصی ندا دی جاتی ہے۔اور اس رات میں جاگ کر نماز، تلاوتِ قرآن، اور ذکر و اذکار کرنا مستحب اور باعثِ ثواب ہے۔
جبکہ 15 شعبان کا روزہ رکھنا مستحب ہے اور خاص فضیلت رکھتا ہے۔ مزید براںشبِ برات میں انفرادی عبادت کرنا افضل ہے۔جسے بدعات سے بچانا ضروری ہے کیونکہ یہ رات توبہ و استغفار اور اللہ کی رحمت سمیٹنے کا خاص موقع ہے۔









