لاہور: (پاک ترک نیوز)کیا آپ جانتے ہیں کہ سجدہ صرف عبادت نہیں، بلکہ دماغ کے لیے بھی ایک عظیم نعمت ہے؟
آج ہم آپ کو ایک ایسی تحقیق کے بارے میں بتانے جا رہے ہیں جو ایمان کو تازہ اور عقل کو سوچنے پر مجبور کر دیتی ہے۔امریکا میں کی گئی ایک سائنسی تحقیق اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ سجدہ کرنے سے انسانی دماغ کی سرگرمیوں میں مثبت تبدیلیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔
یہ تحقیق اگرچہ مختصر پیمانے پر کی گئی، مگر اس کے نتائج نہایت غور طلب ہیں۔تحقیق میں شامل پانچ رضاکار — تین خواتین اور دو مرد — مکمل طور پر صحت مند تھے۔ انہیں نہ کبھی ذہنی بیماری لاحق رہی، نہ دماغ یا ریڑھ کی ہڈی کی سرجری ہوئی، اور نہ ہی وہ کسی نیورو سائیکولوجیکل دوا کا استعمال کرتے تھے۔
سب سے اہم بات یہ کہ وہ نماز باقاعدگی سے ادا کرتے تھے۔ تجربے کے دوران ان رضاکاروں کے دماغی سگنلز کو مختلف سائنسی آلات کے ذریعے ریکارڈ کیا گیا، کبھی آنکھیں کھلی حالت میں، اور کبھی آنکھیں بند حالت میں۔
خاص طور پر سجدے کے دوران دماغی فریکوئنسی بینڈز میں تبدیلیاں نوٹ کی گئیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ سجدہ ذہنی سکون، توجہ اور اندرونی توازن پر اثر ڈال سکتا ہے۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ قرآن نے ہمیں سجدے کا حکم آج سے چودہ سو سال پہلے دیا، اور آج جدید سائنس اس کے ممکنہ فوائد کو دریافت کر رہی ہے۔
سجدہ وہ لمحہ ہے جب انسان سب سے زیادہ اللہ کے قریب ہوتا ہے، اور شاید اسی لمحے دماغ بھی سب سے زیادہ متوازن اور پرسکون حالت میں آ جاتا ہے۔یہ تحقیق ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ نماز محض فرض نہیں، بلکہ فطرت کے عین مطابق ایک نظام ہے۔
سجدہ ہمیں جھکنا سکھاتا ہے، اور شاید اسی جھکنے میں انسان کا ذہن، دل اور روح سیدھی ہو جاتی ہے۔اگر آپ چاہتے ہیں ذہنی سکون، دل کا اطمینان اور اللہ سے قربت —تو سجدہ کو بوجھ نہیں، نعمت سمجھ کر ادا کیجیے۔









