تہران: (پاک ترک نیوز)ایرانی صدرمسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ جاری جوہری مذاکرات سے حوصلہ افزا اشارے ملے ہیں، تاہم تہران ہر ممکن صورتحال کے لیے تیار ہے۔
انہوں نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ ایران خطے میں امن اور استحکام کا خواہاں ہے اور حالیہ مذاکرات میں عملی تجاویز کا تبادلہ ہوا ہے، لیکن امریکا کے اقدامات پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور کسی بھی ممکنہ منظرنامے سے نمٹنے کے لیے مکمل تیاری کی جا چکی ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے اور امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر تہران کے جوہری پروگرام پر معاہدہ نہ ہوا تو نتائج بہت خطرناک ہوں گے۔
امریکا نے مشرق وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی میں غیر معمولی اضافہ کر دیا ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق 2003 ءکے عراق جنگ کے بعد یہ سب سے بڑی فضائی اور بحری تعیناتی ہے، جس کے تحت 120 سے زائد طیارے خطے میں بھیجے گئے ہیں جبکہ دنیا کا سب سے بڑا طیارہ بردار جہازجیرالڈ فورڈ بھی ابراہم لنکن کے ساتھ شامل ہونے کے لیے روانہ ہے جو پہلے ہی بحیرہ عرب میں موجود ہے۔
عمان کے وزیر خارجہبدر البصیدی نے تصدیق کی ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کا تیسرا دور جمعرات کو جنیوا میں ہوگا۔
عمان اس پورے عمل میں ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔ اس سے پہلے عمان اور جنیوا میں ہونے والے مذاکرات کو دونوں جانب سے مثبت قرار دیا گیا تھا تاہم کوئی بڑا بریک تھرو سامنے نہیں آیا۔
امریکا کے خصوصی نمائندے سٹیو واٹکوف نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ حیران ہیں کہ اتنے دباؤ کے باوجود ایران نے ابھی تک ہتھیار کیوں نہیں ڈالے۔
ان کا کہنا تھا کہ خطے میں امریکی بحری اور فضائی طاقت کی موجودگی کے باوجود تہران کی جانب سے پسپائی اختیار نہ کرنا واشنگٹن کے لیے سوالیہ نشان ہے۔
ایرانی وزیر خارجہعباس عراقچی نے اس بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ایران اس لیے سرنڈر نہیں کرتا کیونکہ وہ ایرانی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران کا جوہری پروگرام قومی وقار اور فخر کا معاملہ ہے، جسے ایرانی سائنسدانوں نے اپنی محنت سے تیار کیا ہے اور اس کے لیے ملک نے بھاری قیمت ادا کی ہے، جس میں دو دہائیوں پر محیط پابندیاں، سائنسدانوں کی ٹارگٹ کلنگ اور جوہری تنصیبات پر حملے شامل ہیں۔
ان کے مطابق ایران این پی ٹی کا پابند رکن ہے اور بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کی نگرانی میں اس کا پروگرام مکمل طور پر پرامن ہے، اس لیے اسے ختم کرنے کی کوئی قانونی وجہ نہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران کو پرامن جوہری توانائی اور یورینیم افزودگی کا مکمل حق حاصل ہے، اگرچہ افزودگی مذاکرات کا سب سے حساس معاملہ ہے اور دونوں فریق ایک دوسرے کے مؤقف سے آگاہ ہیں۔
امریکا کی جانب سے مذاکرات کو جوہری معاملے سے آگے بڑھا کر ایران کے میزائل پروگرام اور خطے میں اس کے اتحادی گروپوں تک پھیلانے کی کوشش کی جا رہی ہے، لیکن تہران نے واضح کیا ہے کہ موجودہ مذاکرات صرف جوہری پروگرام تک محدود رہیں گے۔












