واشنگٹن ( پاک ترک نیوز) دنیا کے سب سے خطرناک اسٹیلتھ فائٹر جیٹ F-35 کے بارے میں ایسا انکشاف سامنے آیا ہے جس نے دفاعی ماہرین کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ کیا واقعی اس طیارے کو آئی فون کی طرح “بریک” کیا جا سکتا ہے؟ اور اگر ایسا ہوا تو کیا امریکہ اپنے اتحادیوں کی فضائی طاقت ایک بٹن سے ختم کر سکتا ہے؟
نیدرلینڈز کے نائب وزیر دفاع کے بیان نے ایک نیا طوفان کھڑا کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو ایف-35 کے سافٹ ویئر کو توڑ کر تھرڈ پارٹی اپڈیٹس ڈالے جا سکتے ہیں۔ یعنی وہی طیارہ جو مکمل طور پر امریکی کلاؤڈ سسٹم ODIN اور اس سے پہلے کے ALIS پر چلتا ہے، وہ اپنے اصل کنٹرول سے آزاد بھی ہو سکتا ہے۔
لیکن اصل کہانی یہاں سے شروع ہوتی ہے۔ ایف-35 صرف ایک جہاز نہیں بلکہ ایک اڑتا ہوا ڈیٹا سینٹر ہے۔ اس کی مشن فائلز، دشمن کے ایئر ڈیفنس کا نقشہ، اسٹیلتھ روٹس اور الیکٹرانک وارفیئر کی مکمل حکمت عملی امریکی نیٹ ورک سے آتی ہے۔ اگر یہ سپورٹ بند ہو جائے تو اربوں ڈالر کا یہ شاہکار چند دنوں میں زمین پر کھڑا ہو سکتا ہے۔
اب سوال یہ ہے کیا امریکہ کے پاس کوئی خفیہ “Kill switch” ہے؟ اگر واشنگٹن اور یورپ کے تعلقات مزید خراب ہوئے تو کیا اتحادی ممالک اپنے ہی جہاز اڑا سکیں گے؟ دلچسپ بات یہ ہے کہ صرف اسرائیل وہ واحد ملک ہے جس نے اپنے ایف-35 میں مقامی سافٹ ویئر ڈالنے کا حق حاصل کیا۔ باقی دنیا اب بھی امریکی سپیئر پارٹس، مینٹیننس اور اپڈیٹس کی محتاج ہے۔
یعنی اگر کل سیاسی تعلقات ٹوٹ گئے تو جدید ترین فضائی طاقت لمحوں میں مفلوج ہو سکتی ہے۔ یہ صرف ایک ٹیکنیکل مسئلہ نہیں۔ یہ عالمی طاقت کے توازن، دفاعی خود مختاری اور مستقبل کی جنگوں کا سوال ہے۔












