
از: سہیل شہریار
امریکہ نےپاک فضائیہ کے ایف۔16 طیاروں کی جدید کاری کے لیے 686 ملین ڈالر کے بڑے امدادی پیکیج کے بعد اب ایف۔ 16 طیاروں کےریڈار سسٹمز کی طویل مدتی انجینئرنگ اور تکنیکی معاونت کے لیے نارتھروپ گرومن سے 488 ملین ڈالر کا معاہدہ کیا ہے۔جس کے تحت پاکستان سمیت دو درجن کے قریب دوست اور اتحادی ملکوں کے ایف۔16طیاروںکے ریڈار نظاموں کی جدید کاری کی جائے گی۔
امریکہ کی فضائیہ نے امریکی کمپنی نارتھروپ گرومن سسٹمز کارپوریشن سے 10سالوں پر محیط طویل مدتی معاہدہ کیا ہے ۔ اس488 ملین ڈالر کےمعاہدے کے تحت ناتھروپ انجینئرنگ اور ایف۔ 16 فائٹنگ فالکن ریڈار سسٹمز کی جدید کاری کے لئے تکنیکی مدد فراہم کرے گی۔ اس معاہدے سے فائدہ اٹھانے والے21 ممالک میں پاکستان بھی شامل ہے۔
امریکی حکومت کی جاری کردہ معلومات کے مطابق نارتھروپ سے مقررہ قیمت میں غیر معینہ مدت کی ترسیل اور غیر معینہ مقدار کی فراہمی کا معاہدہ کیا گیا ہے۔جس کے تحت ایف۔ 16 لڑاکا طیاروں میں استعمال ہونے والےاے پی جی۔ 66 اوراے پی جی۔ 68 ریڈار سسٹمز کی جدید کاری کی جائے گی ۔ اور یہ کام نارتھروپ گرو من کےمیری لینڈ میں واقع فیکٹری میں کیا جائے گا۔جو 31 مارچ 2036 تک جاری رہے گا۔
یہ معاہدہ پاکستان سمیت امریکی فضائیہ کی اتحادی اور شراکت دار فضائی افواج میں ایف۔ 16 کی آپریشنل تیاریوں کو برقرار رکھنے کے لیے طویل مدتی عزم کی نشاندہی کرتا ہے۔جس کے تحت امریکہ وقتاً فوقتاً ایف۔16طیاروں کے بیڑوں کی جدید کاری اور دیکھ بھال کا اہتمام کرتا رہتا ہے تاکہ انہیں بہترین چالو حالت میں رکھا جا سکے۔
دریں اثناحالیہ پیش رفت دسمبر 2025 میں امریکہ کی ڈیفنس سیکیورٹی کوآپریشن ایجنسی (ڈی ایس سی اے) کی جانب سے پاکستان کو ایف۔ 16 بیڑے کو اپ گریڈ کرنے اور سپورٹ کرنے کے لیےمنظور کئے گئے 686 ملین ڈالر کے مجوزہ پیکیج کے علاوہ ہے۔
اس مجوزہ جدید کاری منصوبے پر عملدرآمد کے لئے ایف۔16بنانے والی کمپنی لاک ہیڈ مارٹن کو پرنسپل کنٹریکٹر کے طور پر شناخت کیا گیا ہے۔منصوبے میںلنک۔ 16 ٹیکٹیکل ڈیٹا سسٹمز، کرپٹوگرافک آلات، ایویونکس اپ گریڈ، تربیت اور لاجسٹک سپورٹ شامل ہیں۔ مجوزہ جدید کاری میں آپریشنل فلائٹ پروگرام، دوست یا دشمن کا شناختی نظام، درست نیویگیشن ٹولز اور محفوظ مواصلاتی آلات میں ترمیم بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ سمیلیٹر، تکنیکی دستاویزات، سافٹ ویئر اپ ڈیٹس اور انجینئرنگ سپورٹ بھی جدید کاری میں شامل ہیں۔
ڈی ایس سی اے نے مجوزہ فروخت کو پاکستان اور امریکہ کے باہمی ربط کے علاوہ دہشت گردی کے خلاف تعاون اور مستقبل کی ہنگامی کارروائیوں کے لیے شراکت دار افواج کے درمیان باہمی تعاون کو مضبوط بنانے کے اقدام کے طور پر بیان کیا ہے۔اور اس بات پر زور دیا گیا کہ پیکیج کا مقصد پاکستان کے ایف۔ 16 بیڑے کو جدید بناکراس کی سروس لائف کو 2040 تک بڑھانا اور آپریشنل سیفٹی اور ایونکس کی ضروریات کو پورا کرنا ہے۔










