تہران ( پاک ترک نیوز) امریکہ نے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کی سطح کو خطرناک حد تک بڑھا دیا ہے۔ ایئرکرافٹ کیریئر ابراہام لنکن نے "ہلاکتوں” کی ڈرل شروع کر دی ہے، تاکہ عملہ بھاری دشمن کے حملوں کے دوران تیار رہے۔ امریکی بحریہ کا کہنا ہے کہ یہ مشقیں اعلیٰ شدت کی جنگی آپریشنز کے دوران لڑائی کی تیاری کے لیے انتہائی اہم ہیں۔
اسی دوران، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بحری بیڑے جیراڈ فورڈ کو ایران کے قریب تعینات کر دیا، جو خطے میں دوسرا کیریئر اسٹرائیک گروپ ہے، اور یہ اہم مذاکرات کے فوری قبل بھیجا گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس تعیناتی کا مقصد دباؤ ڈالنا اور ایران کو کسی بھی ممکنہ حملے سے خبردار کرنا ہے۔
اس کے ساتھ اسرائیلی حکام نے اندازہ لگایا ہے کہ ممکنہ امریکی حملے میں اسرائیل ڈیفنس فورس کی براہِ راست شرکت کا مطالبہ کیا جا سکتا ہے۔ اسرائیل اب محدود کشیدگی کی تیاری نہیں کر رہا بلکہ خطے میں ممکنہ وسیع جنگ کے لیے دفاعی حکمت عملی پر کام کر رہا ہے۔
آئی ڈی ایف نے پورے ملک میں 7 ایئر ڈیفنس بیٹلینز تعینات کر دیے ہیں، جس میں تقریباً 100–150 لانچر شامل ہیں، جبکہ اسرائیلی فضائیہ نے طویل اور شدید ایرانی میزائل حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنی کارروائیاں مستحکم کر دی ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ صرف ایک عارضی کشیدگی نہیں، بلکہ ایک ایسے منصوبے کی تیاری ہے جو خطے کے طاقت کے توازن کو بدل سکتا ہے۔ امریکی اور اسرائیلی تیاریاں بتا رہی ہیں کہ ممکنہ جنگ نہ صرف میزائلوں اور طیاروں کی ہوگی بلکہ خطے میں سیاسی اور معاشی اثرات بھی شدید ہوں گے۔ دنیا بھر کی نظریں مشرقِ وسطیٰ پر مرکوز ہیں، اور ہر لمحہ اہم ہے۔ یہ وہ وقت ہے جب مستقبل کی جنگ کے امکانات اور عالمی طاقت کے توازن میں بڑی تبدیلیاں رونما ہو سکتی ہیں۔












