ڈبلن: (پاک ترک نیوز) یورپ بھر میں اسرائیلی مصنوعات کے بائیکاٹ کی تحریک تیزی سے پھیل رہی ہے، جہاں ایک آئرش سپر مارکیٹ کے ملازم کے انفرادی اقدام سے شروع ہونے والا احتجاج اب یونینز، طلبہ، سیاسی جماعتوں اور حکومتوں تک جا پہنچا ہے۔
آئرلینڈ کے ایک ساحلی شہر میں ایک سپر مارکیٹ ملازم نے غزہ کی تباہی کی تصاویر دیکھنے کے بعد خاموشی سے گاہکوں کو بتانا شروع کیا کہ کچھ پھل اور سبزیاں اسرائیل سے درآمد شدہ ہیں، اور بعد ازاں اس نے انہیں اسکین کرنے سے انکار کر دیا۔
اس اقدام پر سپر مارکیٹ نے اسے معطل کر دیا، تاہم عوامی احتجاج اور یونین کے دباؤ کے بعد اسے بحال کر کے ایسے شعبے میں منتقل کر دیا گیا جہاں اسے اسرائیلی مصنوعات سے واسطہ نہ پڑے۔
یورپ میں مزدور تنظیمیں آئرلینڈ، برطانیہ اور ناروے میں قراردادیں منظور کر چکی ہیں کہ کارکنوں کو اسرائیلی اشیاء ہینڈل کرنے پر مجبور نہ کیا جائے۔
برطانیہ کی کوآپ اور اٹلی کی کوپ الیانزا 3.0 جیسی ریٹیل چینز نے بھی احتجاجاً کچھ اسرائیلی مصنوعات ہٹا دی ہیں۔
یہ تحریک 1984 ء کی اس تاریخی مثال سے جوڑی جا رہی ہے جب آئرلینڈ کے ڈن اسٹورز کے کارکنوں نے جنوبی افریقا کی نسل پرستانہ حکومت کے خلاف 3سال تک سامان ہینڈل کرنے سے انکار کیا تھا، جس کے بعد آئرلینڈ نے اس کے ساتھ تجارت پر پابندی لگا دی تھی۔
فلسطینیوں کی حمایت میں قائم بی ڈی ایس تحریک حکومتوں، بینکوں، یونیورسٹیوں اور پنشن فنڈز پر دباؤ بڑھا رہی ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ معاشی تعلقات ختم کریں۔
اس دباؤ کے نتیجے میں اسپین اور سلووینیا غیر قانونی اسرائیلی بستیوں سے آنے والی مصنوعات پر پابندی لگا چکے ہیں، جبکہ آئرلینڈ بھی مقبوضہ علاقوں سے تجارت روکنے کا بل آگے بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔
دوسری جانب اسرائیل کے حامی عالمی ادارے اور لابیاں ان اقدامات کی مخالفت کر رہی ہیں اور اسے یہودی مخالف مہم قرار دے رہی ہیں۔
جرمنی کی پارلیمنٹ پہلے ہی بی ڈی ایس کو یہودیت دشمن قرار دے چکی ہے، جبکہ برطانیہ میں بھی ایسے قوانین لانے کی کوشش ہوئی جو مقامی اداروں کو بائیکاٹ سے روک سکیں۔
لیک ہونے والی دستاویزات کے مطابق اسرائیل نے یورپ میں بائیکاٹ تحریک کی نگرانی اور اس کے خلاف قانونی اقدامات کے لیے خفیہ پروگرام بھی شروع کیا تھا۔
ماہرین کے مطابق یہ معاملہ اب صرف عوامی احتجاج نہیں رہا بلکہ یورپ کی پالیسی سازی اور عالمی سفارت کاری پر اثر انداز ہونے لگا ہے۔












