کیلیفورنیا : (پاک ترک نیوز)خلائی تحقیق کی دنیا میں ایک بڑی تبدیلی سامنے آ گئی ہے۔ اسپیس ایکس کے بانی اور دنیا کے معروف ٹیکنالوجی انٹرپرینیور ایلون مسک نے اعلان کیا ہے کہ ان کی کمپنی اب مریخ کے بجائے چاند پر ایک مستقل اور ترقی یافتہ انسانی بستی قائم کرنے پر توجہ مرکوز کرے گی، جسے آئندہ ایک دہائی سے بھی کم عرصے میں عملی شکل دی جا سکتی ہے۔
ایلون مسک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ مریخ پر شہر بسانے کا منصوبہ فی الحال موخر کیا جا رہا ہے، جبکہ چاند کو انسانی تہذیب کے مستقبل کے تحفظ کے لیے زیادہ فوری اور مؤثر راستہ سمجھا جا رہا ہے۔
ان کے مطابق چاند تک رسائی نسبتاً آسان ہے اور وہاں تجربات کے ذریعے انسانوں کے لیے خلا میں مستقل رہائش کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق، اسپیس ایکس نے اپنے سرمایہ کاروں کو بھی آگاہ کر دیا ہے کہ آئندہ مرحلے میں کمپنی کی اولین ترجیح چاند پر مشن بھیجنا ہے۔
منصوبے کے تحت مارچ 2027 میں بغیر عملے کے ایک تجرباتی مشن کے ذریعے چاند پر لینڈنگ کی جائے گی، جو مستقبل کے انسانی مشنز کے لیے بنیاد فراہم کرے گا۔
یہ فیصلہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایلون مسک اس سے قبل 2026 تک مریخ پر بغیر انسان کے مشن بھیجنے کی بات کر رہے تھے، تاہم اب ان منصوبوں کی سمت تبدیل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔
خلائی ماہرین کے مطابق، امریکا اور چین کے درمیان چاند پر دوبارہ انسانوں کو بھیجنے کی دوڑ میں تیزی آ چکی ہے۔ انسان آخری بار 1972 میں اپولو 17 مشن کے تحت چاند کی سطح پر پہنچے تھے، اور اس کے بعد نصف صدی سے زائد عرصے تک کوئی انسانی مشن وہاں نہیں گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے برسوں میں چاند ایک بار پھر عالمی خلائی سیاست اور سائنسی تحقیق کا مرکز بن سکتا ہے۔












