لاہور( پاک ترک نیوز) دنیا کی تاریخ میں کچھ کہانیاں ایسی ہوتی ہیں جو سُننے میں افسانہ لگتی ہیں، لیکن جب وہ حقیقت بن کر سامنے آئیں تو مذہب اور جغرافیہ سب ہل کر رہ جاتے ہیں۔ آج ہم بات کر رہے ہیں یہودیوں کے گمشدہ قبیلے اور اُن اولاد کی جو 2 ہزار 700 سال بعد ایک بار پھر اسرائیل واپس جا رہا ہے۔
بھارت کی شمال مشرقی ریاست میزورام اور پڑوسی ریاست منی پور میں آباد بنی مناشے برادری خود کو حضرت یوسف کے بیٹے مناشے کی نسل سے جوڑتی ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ان کے آباؤ اجداد کو قدیم اسرائیل سے جلا وطن کیا گیا، اور وہ صدیوں کا سفر طے کرتے ہوئے چین کے راستے ہندوستان کے پہاڑی علاقوں تک پہنچے۔
یہ تاریخ کسی کتاب میں درج نہیں، بلکہ نسل در نسل زبانی روایات کے ذریعے زندہ رکھی گئی۔ 2005 ء میں ایک یہودی عالم نے اس برادری کو یہودیت کے گمشدہ قبائل میں شامل کیا، اور یہیں سے ایک غیر معمولی سفر کا آغاز ہوا۔
گذشتہ 2 دہائیوں میں 4 ہزار سے زائد بنی مناشے افراد اسرائیل منتقل ہو چکے ہیں، اور اب اسرائیلی حکومت نے ایک باقاعدہ منصوبے کی منظوری دے دی ہے جس کے تحت تقریباً 5800 افراد کو مرحلہ وار اسرائیل آباد کیا جائے گا۔ پہلے مرحلے میں 300 افراد اسی مہینے روانہ ہو سکتے ہیں، جبکہ 2026 ء کے اختتام تک یہ تعداد 1200 تک پہنچنے کی توقع ہے۔
اسرائیلی حکومت ان تارکینِ وطن کو رہائش، عبرانی زبان کی تربیت، روزگار، اور سماجی فلاحی سہولیات فراہم کرے گی۔ انہیں اسرائیل کے شمالی علاقوں میں بسایا جائے گا، جہاں آبادی کم ہو چکی ہے اور سیکیورٹی چیلنجز موجود ہیں۔ بنی مناشے برادری کے لیے یہ محض ہجرت نہیں، یہ اپنی گمشدہ شناخت کی واپسی ہے۔












