تہران:(پاک ترک نیوز)ایران نے ایک ایسا ویژول پیش کر دیا ہے جس میں امریکی بحری بیڑا ٹوٹتا، بکھرتا اور سمندر میں ڈوبتا ہوا دکھایا گیا ہے۔ طیارہ بردار جہاز، اس کے ڈیک پر کھڑے جنگی طیارے، اور سرخ لکیروں میں ڈوبا ہوا منظر۔ جیسے امریکی پرچم خود سمندر برد ہو رہا ہو۔
یہ منظر کشی اس وقت عالمی بحث بن چکی ہے۔ بین الاقوامی اخبارات ہوں یا امریکن پریس، سب اسی تصویر، اسی پیغام اور اسی علامت پر بات کر رہے ہیں۔
یہ مناظر تہران میں انقلاب اسکوائر پر بہت بڑے ہورڈنگ بورڈ پر دکھائے گئے ہیں، جہاں صاف پیغام دیا گیا: اگر امریکی بحری بیڑا خلیج فارس میں آگے بڑھا، تو اس کا انجام یہی ہوگا۔تجزیہ کاروں کے مطابق یہ منظر کشی محض پروپیگنڈا نہیں، بلکہ ایک واضح عسکری اشارہ ہے۔ ایران کے پاس اینٹی شپ اور کروز میزائلز کی ایک پوری رینج موجود ہے۔
خیبر، حاج قاسم، شہاب سیریز ، ذوالفقار، عماد، سجیل اور خاص طور پر “یا علی” میزائل، جسے کم بلندی پر، ریڈار سے بچتے ہوئے، بحری اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔کہا جاتا ہے کہ یہ میزائل سینکڑوں کلوگرام بارودی مواد کے ساتھ 600 سے 700 کلومیٹر تک مار کر سکتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ماہرین سمجھتے ہیں کہ جس تباہی کی منظرکشی کی گئی ہے، اس کے پیچھے “یا علی” جیسے ہتھیاروں کا تصور ہے۔ امریکی بحری بیڑے میں طاقت ضرور ہے۔
ایٹمی ری ایکٹر، درجنوں جنگی طیارے، سب میرینز اور اسکارٹ جہاز۔ مگر سوال یہ ہے: کیا یہ طاقت ایران جیسے ملک کے سامنے ناقابلِ شکست ہے؟ ایران نے نعرہ لگا دیا ہے “یا علی” اور پیغام واضح ہے: یہ خلیج فارس ہے، یہاں غرور نہیں، صرف حساب چلتا ہے۔












