بیجنگ : (پاک ترک نیوز) ذرا تصور کریں، جنوبی بحیرۂ چین میں ایک بحری بیڑا گشت کر رہا ہے۔ اچانک فضا میں ایک عجیب سی بھنبھناہٹ گونجتی ہے۔یہ نہ لڑاکا طیارے ہیں، نہ میزائل۔ یہ ہیں ہزاروں خودکش ڈرونز، سستے، تیز اور دھماکہ خیز۔
دفاعی نظام فائر کھول دیتا ہے، مگر مسئلہ یہ ہے کہایک ڈرون گرتا ہے تو دس اور اس کی جگہ آ جاتے ہیں۔یہی وہ خوفناک منظر ہے جو آج دنیا کے فوجی کمانڈرز کی نیندیں اڑا رہا ہے۔
مگر اب سوال یہ ہے:اگر ڈرونز کو مارنے کی ضرورت ہی نہ پڑے؟اگر انہیں ہوا میں ہی ماردیا جائے؟
چین نے اب ایک ایسی ٹیکنالوجی پیش کی ہے جو یہی دعویٰ کرتی ہے۔اس کا نام ہے Hurricane 3000۔یہ کوئی میزائل لانچر نہیں، نہ توپ۔یہ ایک ہائی پاور مائیکروویو ہتھیار ہے،جو نظر نہ آنے والی توانائی کی لہریں فائر کرتا ہے۔
یہ نظام ڈرون کو جام نہیں کرتا…بلکہ اس کے الیکٹرانک دماغ کو ہمیشہ کے لیے جلا دیتا ہے۔GPS، فلائٹ کنٹرول، سینسر…سب کچھ ایک لمحے میں ختم۔
یہ سسٹم ایک موبائل 8×8 فوجی گاڑی پر نصب ہے،جس میں اپنا ریڈار، کیمرے اور ایک بڑی فلیٹ اینٹینا پلیٹ موجود ہے۔
چینی ماہرین کے مطابق،یہ ہتھیار 3 کلومیٹر کے دائرے میں آنے والے تمام ڈرونز کوایک ساتھ ناکارہ بنا سکتا ہے۔یعنی گولی نہیں، میزائل نہیں…صرف توانائی کی ایک دیوار۔
سب سے خطرناک بات؟اس کا ہر شاٹ تقریباً مفت ہے۔نہ مہنگے میزائل، نہ گولہ بارود ختم ہونے کا خوف۔اگر یہ دعوے درست ثابت ہوئے،تو ڈرون وارفیئر کی پوری معیشت الٹ جائے گی۔یہ محض ایک ہتھیار نہیں…یہ جنگ کے مستقبل کا اعلان ہے۔آنے والی جنگیں شاید دھماکوں سے نہیں،بلکہ لہروں، فریکوئنسی اور روشنی سے لڑی جائیں گی۔












