لاہور: (پاک ترک نیوز)وفاقی حکومت نے توانائی پالیسی میں بڑی تبدیلی کی تیاری شروع کر دی ہے، جس کے تحت موجودہ نیٹ میٹرنگ سسٹم ختم کر کے نیٹ بلنگ پالیسی نافذ کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس فیصلے کے اثرات سولر صارفین پر نمایاں طور پر مرتب ہوں گے۔موجودہ نیٹ میٹرنگ نظام کے تحت صارفین گرڈ سے لی گئی اور گرڈ کو فراہم کی گئی بجلی کو یونٹ بہ یونٹ برابر بنیاد پر ایڈجسٹ کرتے تھے، جس کے باعث بجلی کا بل انتہائی کم یا صفر ہو جاتا تھا۔
تاہم نئی پالیسی کے تحت گرڈ سے حاصل کی جانے والی بجلی پر مکمل قومی ٹیرف لاگو ہو گا، جبکہ سولر سسٹم کے ذریعے گرڈ کو دی جانے والی بجلی کے عوض صارفین کو کہیں کم ریٹ پر کریڈٹ دیا جائے گا۔ماہرین کے مطابق اس پالیسی تبدیلی کے معاشی اثرات شدید ہو سکتے ہیں۔
مثال کے طور پر اگر کوئی صارف 300 یونٹ بجلی گرڈ کو فراہم کرتا اور اتنی ہی مقدار میں واپس لیتا ہے تو اب اسے تقریباً 10 ہزار روپے کا بل ادا کرنا پڑ سکتا ہے، جبکہ پرانے نظام میں یہ بل تقریباً صفر ہوتا تھا۔
حکومت اور بجلی تقسیم کار ادارے (ڈسکوز) اس فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ گرڈ کے انفراسٹرکچر کے اخراجات پورے کرنے اور مبینہ ریونیو نقصانات سے بچنے کے لیے یہ اقدام ضروری ہے۔
دوسری جانب ناقدین کا مؤقف ہے کہ یہ پالیسی ان صارفین کو سزا دینے کے مترادف ہے جنہوں نے اپنی ذاتی سرمایہ کاری سے قومی توانائی نظام کو مضبوط بنانے میں کردار ادا کیا۔
یہ پالیسی تبدیلی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب نیٹ میٹرنگ کی ہزاروں درخواستیں ڈسکوز میں التوا کا شکار ہیں اور بڑی تعداد میں سولر سسٹمز تاحال میٹر لگنے اور گرڈ سے منسلک ہونے کے منتظر ہیں۔ بعض تقسیم کار اداروں، جن میں لیسکو بھی شامل ہے، نے وفاقی وزارت کی ہدایات پر نئے سولر میٹرز کی تنصیب کے کیسز روک دیے ہیں۔
نیپرا کی گراس میٹرنگ کی تجویزگزشتہ ماہ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے چھتوں پر لگے سولر سسٹمز کے لیے نیٹ میٹرنگ کے بجائے گراس میٹرنگ نظام متعارف کرانے کی سفارش کی تھی۔ نیپرا کے مطابق نیٹ میٹرنگ کی وجہ سے روایتی گرڈ استعمال کرنے والے صارفین پر مالی بوجھ بڑھ رہا ہے۔
نیپرا کی جانب سے جاری کردہ مجوزہ ’’پروسومر ریگولیشنز‘‘ کے تحت آئندہ نئے گھریلو سولر صارفین اپنی بجلی ڈسکوز کے ساتھ گراس میٹرنگ کے ذریعے فروخت کریں گے۔ تاہم جن صارفین کے پاس پہلے سے سات سالہ نیٹ میٹرنگ معاہدے موجود ہیں، وہ معاہدے کی مدت ختم ہونے تک 22 روپے فی یونٹ کے حساب سے بجلی فروخت کرتے رہیں گے۔
نئے سولر سسٹمز کے لیے مجوزہ گراس میٹرنگ نظام کے تحت بجلی کی خریداری کا ریٹ 11.30 روپے فی یونٹ تجویز کیا گیا ہے، جبکہ یہ معاہدے پانچ سال کے لیے ہوں گے اور باہمی رضامندی سے توسیع ممکن ہو گی۔
نیپرا نے ان مجوزہ ضوابط پر 30 دن کے اندر صارفین اور متعلقہ فریقین سے آراء طلب کی ہیں اور امکان ہے کہ حتمی فیصلے سے قبل عوامی سماعت بھی کی جائے گی۔واضح رہے کہ نیٹ میٹرنگ میں صارف کی فراہم کردہ اور استعمال شدہ بجلی آپس میں ایڈجسٹ ہو جاتی ہے، جبکہ گراس میٹرنگ میں صارف کو پیدا کی گئی بجلی ایک مقررہ ریٹ پر فروخت کرنا ہوتی ہے اور گرڈ سے لی گئی بجلی کا بل الگ سے مکمل ٹیرف پر ادا کرنا پڑتا ہے۔











