کیلیفورنیا :(پاک ترک نیوز)ایلون مسک نے OpenAI اور مائیکروسافٹ سے 134 ارب ڈالر تک کی واپسی کا مطالبہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ یہ رقم ان کو ابتدائی تعاون سے حاصل ہونے والے "غیر قانونی فوائد” کی صورت میں ملنی چاہیے۔
یہ دعویٰ وفاقی عدالت میں دائر کیا گیا۔مسک کے مطابق، ان کے ابتدائی تعاون سے OpenAI کو 65.5 ارب سے 109.4 ارب ڈالر کے فوائد حاصل ہوئے، جبکہ مائیکروسافٹ کو 13.3 ارب سے 25.1 ارب ڈالر تک فائدہ پہنچا۔
مسک نے کہا کہ اگر وہ نہ ہوتے تو OpenAI قائم ہی نہ ہوتا، کیونکہ انہوں نے ابتدائی سرمایہ فراہم کیا، اور کمپنی کو بڑھانے کے طریقے سکھائے۔
ایلون مسک کے وکیل اسٹیون مولو نے کہا، "ایک ماہر نے اس تعاون کی مالیت کا تخمینہ لگایا ہے۔”OpenAI نے اس دعوے کو "غیر سنجیدہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ مسک کی جانب سے OpenAI کے خلاف "ہراساں کرنے کی مہم” کا حصہ ہے۔
مائیکروسافٹ نے اس معاملے پر فوری تبصرہ نہیں کیا۔مسک، جو 2018 میں OpenAI چھوڑ چکے ہیں اور اب xAI کے ذریعے ChatGPT کے مقابلے میں سرگرم ہیں، کا کہنا ہے کہ OpenAI نے اپنی بنیادی مشن کی خلاف ورزی کرتے ہوئے منافع بخش کمپنی میں تبدیلی کی۔
کیلیفورنیا کی عدالت نے اس ماہ فیصلہ کیا کہ مقدمہ جیوری کے سامنے پیش کیا جائے گا، جو اپریل میں شروع ہونے کی توقع ہے۔مسک نے بتایا کہ انہوں نے تقریباً 38 ملین ڈالر فراہم کیے، جو OpenAI کے ابتدائی فنڈ کا 60 فیصد تھا، عملے کی بھرتی میں مدد کی، اور بانیوں کو روابط اور اعتبار فراہم کیا۔مسک کے وکیل کا کہنا ہے کہ جیوری اگر کسی کمپنی کو ذمہ دار قرار دیتی ہے توان کے موکل ممکنہ سزا، جرمانہ یا انسداد احکام کے لیے بھی درخواست کر سکتے ہیں۔
دونوں کمپنیوں نے اپنے جواب میں کہا کہ مسک کے ماہر گواہ کے تجزیے کو جیوری کے سامنے پیش نہیں کیا جانا چاہیے، کیونکہ یہ "ناقابل تصدیق” اور "ناقابل یقین” ہے اور اربوں ڈالر کی منتقلی کا غیر حقیقی دعویٰ کرتا ہے۔










