
از: سہیل شہریار
غزہ میں جنگ بندی کے لئے دوحہ مزاکرات دوبارہ شروع ہو گئے ہیں ۔مگرسرائیلی فوج کے غزہ سے انخلا کا اہم ترین معاملہ دونوں فریقوں کے اپنے مؤقف سے پیچھے نہ ہٹنے کی بنا پر معاہدے تک پہنچنے کی راہ میں روکاوٹ بنا ہوا ہے۔ جبکہ صیہونی حکومت کی وحشیانہ بم باری نے غزہ کی پٹی کے شمال سے جنوب تک تمام علاقوں کو لپیٹ میں لے لیا ہے۔ ان خونی حملوں میں سو سے زائدفلسطینی جاں بحق اور سینکڑوں زخمی ہو چکے ہیں۔
غزہ کی پٹی سے آنےوالی تازہ ترین معلومات میں ذرائع کا کہنا ہے کہ پیر کو فجر کے وقت سے اب تک جاری اسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجے میں جاں بحق فلسطینیوں کی تعداد 100 تک پہنچ گئی ہے۔
ابتدائی طور پر ہلاکتوں کی تعداد 32 بتائی گئی تھی، جو وقت گزرنے کے ساتھ بڑھ کر 88 ہوئی اور اب 100 سے تجاوز کر گئی ہے۔صیہونی فضائیہ کی وحشیانہ بمباری کا سلسلہ شمالی غزہ سے جنوبی علاقوں میں خان یونس اور رفح، اور مشرقی جانب التفاح اور الشجاعیہ کے علاقوںتک پھیل گیا ہے۔
اسرائیلی میڈیا نےفوجی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ اسرائیلی افواج کی جانب سے غزہ کے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر حملے جاری ہیں۔ ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ مشرقی غزہ کے الشجاعیہ محلے میں اسرائیلی فوج نے ایک بارودی روبوٹ بھی استعمال کیا ہے۔
اسرائیلی میڈیا نےفوجی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ اسرائیلی افواج کی جانب سے غزہ کے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر حملے جاری ہیں۔ ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ مشرقی غزہ کے الشجاعیہ محلے میں اسرائیلی فوج نے ایک بارودی روبوٹ بھی استعمال کیا ہے۔
ادھر اقوام متحدہ کی مختلف ایجنسیوں جن میں خوراک اور صحت کی نگہداشت سے وابستہ ادارے شامل ہیں نے خبردارکیا ہے کہ ایندھن کی شدید کمی کے باعث انھیں جلد اپنی تمام کارروائیاں بند کرنا پڑ سکتی ہیں۔انہوں نے ایک مشترکہ بیان میںکہا ہے کہ ہسپتالوں نے کام کرنا بند کر دیا ہے اور ایمبولینسیں اب نقل و حرکت کے قابل نہیں رہیں۔جبکہ ایندھن کے بغیر نقل و حمل، پانی کی فراہمی، نکاسی آب، مواصلاتی نظام، بیکریاں اور عوامی باورچی خانے سب بند ہو جائیں گے۔ گزشتہ ہفتے غزہ میں تقریباً ڈیڑھ لاکھ لیٹر ایندھن داخل ہوا۔ جو 130 دن کے بعد پہلی کھیپ ہے۔ تاہم یہ صرف روزمرہ کی ضروریات اور امدادی سرگرمیوں کو جاری رکھنے کے لیے درکار مقدار کا ایک معمولی حصہ ہے۔












