لاہور: (پاک ترک نیوز)پنجاب حکومت آئندہ چند ماہ میں عوام کے لیے 37 ہزار رہائشی یونٹس کی تعمیر کا ایک بڑا منصوبہ شروع کرنے جا رہی ہے، جس کے لیے ابتدائی تیاریوں میں تیزی آ گئی ہے۔
یہ منصوبہ “پنجاب افورڈیبل ہاؤسنگ پروگرام (PAHP)” کے نام سے شروع کیا جا رہا ہے، جو عالمی بینک کے تعاون سے پانچ سالہ مدت میں 250 ملین ڈالر کی لاگت سے مکمل کیا جائے گا۔
پنجاب حکومت کو پیش کی گئی ایک رپورٹ کے مطابق اس پروگرام کے تحت مجموعی طور پر 37 ہزار رہائشی یونٹس فراہم کیے جائیں گے، جن میں سے 20 ہزار گھر سرکاری زمین پر عالمی بینک کی فنانسنگ سے تعمیر کیے جائیں گے، جبکہ باقی یونٹس نجی شعبے کے اشتراک سے مکمل کیے جائیں گے تاکہ ایک متوازن اور پائیدار ماڈل کے تحت ہاؤسنگ کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔
منصوبے پر عملدرآمد کے لیے ایک منظم ادارہ جاتی فریم ورک تشکیل دیا گیا ہے، جس کے تحت اربن یونٹ اور پنجاب ہاؤسنگ اینڈ ٹاؤن پلاننگ ایجنسی پروگرام مینجمنٹ اینڈ امپلیمنٹیشن یونٹ (PMIU) کے ذریعے اس کی نگرانی کر رہے ہیں۔
عملدرآمد کی تیاری کے لیے صوبے بھر میں 41 سرکاری مقامات کی نشاندہی کر لی گئی ہے، جس میں لینڈ ریکارڈ اور ریونیو اداروں کی معاونت حاصل کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق ان تمام مقامات کی جامع فیلڈ ویریفکیشن مکمل کر لی گئی ہے، جبکہ عالمی بینک کے پروٹوکولز کے مطابق مرحلہ وار عملدرآمد کے لیے ضلعی انتظامیہ کو بھی اعتماد میں لیا جا چکا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پنجاب کی فلیگ شپ اسکیم “اپنی چھت، اپنا گھر” کے تحت 2025 میں 50 ہزار سے زائد مکانات مکمل کر لیے گئے ہیں۔ یہ منصوبہ بغیر سود اور بغیر فیس قرضوں کی فراہمی کے ذریعے کم آمدنی والے خاندانوں کو گھر فراہم کر رہا ہے، جس سے بیواؤں، معذور افراد اور اقلیتی برادریوں کو براہ راست فائدہ پہنچا ہے۔
اسی طرح “اپنی زمین، اپنا گھر” پروگرام بھی شروع کیا جا چکا ہے، جس کے تحت بے زمین خاندانوں کو زمین کی ملکیت دی جا رہی ہے۔












