کراچی(پاک ترک نیوز) سٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اجلاس شرح سود کے تعین کے لیے آج ہوگا۔
سٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اجلاس آج منعقد ہوگا، جس میں آئندہ ڈیڑھ ماہ کے لیے پالیسی ریٹ کا تعین کیا جائے گا۔
یاد رہے کہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے پالیسی ریٹ گزشتہ 4 جائزوں کے دوران 11 فیصد کی سطح پر برقرار رکھا گیا تھا۔
مئی 2025 میں اسٹیٹ بینک پالیسی ریٹ میں 100 بیسس پوائنٹس کی کمی کرتے ہوئے اسے 11 فیصد پر لایا تھا، جس کے بعد سے اب تک شرح سود میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔آج ہونے والے اہم اجلاس میں پالیسی ریٹ سے متعلق آئندہ کی حکمت عملی طے کی جائے گی۔
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے افراط زر کو قابو میں رکھنے اور شرح مبادلہ کو مستحکم رکھنے کے لیے موجودہ مانیٹری پالیسی کو جاری رکھنے پر زور دیا ہے۔ سٹیٹ بینک کے مانیٹری پالیسی کمیٹی کے آج کے اجلاس میں اس معاملے کو پیشِ نظر رکھا جائے گا۔
لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر فہیم الرحمٰن سہگل نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ پالیسی ریٹ کو سنگل ڈیجٹ میں لایا جائے تاکہ کاروبار کو ریلیف ملے ۔ زیادہ شرحِ سود نے صنعت اور سرمایہ کاری کو شدید متاثر کیا ہے۔
انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ مہنگی فنانسنگ کے باعث کاروباری لاگت ناقابلِ برداشت ہو چکی ہے۔ شرحِ سود میں کمی سے روزگار کے مواقع بڑھائے جا سکتے ہیں ۔ مانیٹری پالیسی میں نرمی کے بغیر معاشی بحالی ممکن نہیں ہے۔ صنعت، تجارت اور ایس ایم ایز فوری ریلیف کے منتظر ہیں ۔
فہیم الرحمن سہگل کا کہنا تھا کہ زیادہ پالیسی ریٹ برآمدات کی مسابقت کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ سرمایہ کاری کا پہیہ چلانے کے لیے شرحِ سود کم کرنا ناگزیر ہے ۔ کاروباری طبقہ پالیسی سازوں سے حقیقت پسندانہ فیصلوں کی توقع رکھتا ہے ۔ معاشی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے سنگل ڈیجٹ شرحِ سود ضروری ہے ۔












