
از: سہیل شہریار
اسرائیل مشرق وسطیٰ کا واحد ملک ہے جسے امریکہ سے پہلا لاک ہیڈ مارٹن ایف -35 لائٹنینگ II اسٹیلتھ اسٹرائیک فائٹر حاصل ہونے کے بعد تقریبا ایک دہائی گزر چکی ہے۔ پانچویں نسل کے اس طیارے نے عرب دنیا کے وسیع خطے پر اسرائیل کی فضائی اور تکنیکی برتری کوواضح طور پر قائم کر رکھا ہے ۔ اور اس کامظاہرہ جون میں ایران کے خلاف 12 دن کی جنگ میں کیاگیا۔ مگر اب امریکہ نے سعودی عرب کو بھی ایف۔35 لڑاکا طیارےفروخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔جو علاقائی سطح پر اسرائیل کی فضائی اجارہ داری کے خاتمے کا آغاز ثابت ہوسکتا ہے۔جبکہ صدر ٹرمپ نےاعلان کیا ہے کہ امریکہ سعودی عرب کو اسرائیل کے ہم پلہ ایف۔35 طیارے فراہم کرے گا۔
سعودی عرب کو پہلا ایف۔35 جہاز ملنے میں کم از کم 7سے10 سال تک لگ سکتے ہیں۔ یہ بھی تب ہی ممکن ہے اگر اسکا معاہدہ جلد ہی طے پاجاتا ہے۔ اور مسلمان ملکوں کی ماضی کی مثالوں کو دیکھتے ہوئے سیاسی وجوہات کی بناء پر یہ معطل نہیں ہوتا ۔جیسا کہ اس سے پہلے متحدہ عرب امارات اور ترکیہ کو ان جہازوں کی فراہمی کے معاہدوں کے ساتھ ہوچکا ہے۔ متحدہ عرب امارات نے ٹرمپ کی پہلی مدت کے اختتام پر 50 ایف۔35 جہازوںکے لئے معاہدہ کیا تھا۔ تاہم ابوظہبی نے واشنگٹن کی پیشگی شرطوں سے مایوسی پر 2021 کے آخرمیں یہ معاہدہ معطل کردیا تھا۔ جبکہ ترکیہ ایف۔35 کے پیداواری پروگرام کا حصہ تھا اور اس نے اپنے ایف ۔16طیاروں کے بیڑے کو جدید بنانے کے لئےایک سو ایف۔35 حاصل کرنےتھے۔ مگر امریکہ نے 2019 میں روس سے ایس -400 ایئر ڈیفنس میزائل سسٹم کے حصول کی سزا کے طور پرترکیہ کو ایف۔35 کے پروگرام سے الگ کر دیا ۔
دوسری جانب امریکی حکومت اور طیارہ ساز کمپنی لاک ہیڈ مارٹن نے اسرائیل کو اسے فراہم کئے گئے ایف۔35 جہازوں کو جدید سے جدید آلات سے لیس کرنے کی کھلی چھٹی دے رکھی ہے ۔جس کے نتیجے میں اس نے ایف۔35 لائیٹنگ IIاسٹیلتھ جہازوں کو نمایاں طور پر بہتر بنا کر ایک مقامی ماڈل میں تبدیل کر لیا ہے جسے ایف۔35 آئی آدر کا نام دیا گیا ہے۔یہی نہیں اسرائیلی حکومت کا دعویٰ ہے کہ اسےدیگر علاقائی ممالک کے مقابلے میں جدید ترین امریکی ہتھیاروں تک مسلسل رسائی جاری ہے۔اور وہ جلد ہی اپنے ایف۔35 جہازوں کونئےٹیکنالوجی ریفریش 3 سے اپ گریڈ کرےگا۔ دلچسپ امر یہ بھی ہے کہ اسرائیل نے ایف۔35 کی جتنی بھی جدید کاری کی ہے اسے امریکہ سے بھی خفیہ رکھا ہے۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسرائیل کا ایف۔35 آئی آدر لڑاکا جہاز امریکہ میں تیار ہونے والے ایف۔35 اے اور ایف۔35 آئی دونوں ماڈلوں سے زیادہ جدید ہے۔ چنانچہ امریکہ اربوں ڈالرز کے عوض سعودی عرب کو جدید ایف۔35 آئی جہاز بھی فراہم کر دے تویہ اسرائیل کے زیادہ جدید سینسرز اور سسٹمزکے حامل جہازوں کے ہم پلہ نہیں ہو سکتے۔












