
از: سہیل شہریار
اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے لئے جاری مذاکرات مطالبات کے پیچیدہ مرکب میں پھنسنے کے بعد سست روی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ امریکہ، قطر اور مصر کی طرف سے معاہدے تک پہنچنے کے لئے کوششیں تیز کر دی ہیں۔ تاہم یرغمالیوں کی رہائی، فوجی انخلاء، اور انسانی امدادکی بحالی جیسے اہم مسائل کے مختلف نکات پر اتفاق رائےجامع معاہدے میں تاخیر کا موجب بنے ہوئے ہیں۔
غزہ جنگ بندی کے معاہدے تک پہنچنے کے حوالے سےاہم پیش رفت امریکی صدر کی اسرائیلی وزیر اعظم سے ملاقات کے بعد صدر اس اعلان کی صورت میں سامنے آئی ہے کہ اسرائیل جنگ بندی پر راضی ہو گیا ہے ۔مگر اس کے باوجود نیتن یاہو اب بھی کہہ رہا ہے کہ غزہ پر حملے اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک حماس کی فوجی اور حکومتی صلاحیتوں کو ختم نہیں کر دیاجاتا۔
مزید براںٹرمپ۔نیتن یاہو ملاقات کے بعد قطری وفد کی وائٹ ہاؤس کے اعلیٰ حکام کے ساتھاہم ملاقات ہوئی جس کے اختتام پر فلسطینی نژاد امریکی ثالث ڈاکٹر بشارا بحبہ کے ذریعے حماس کو ایک پیغام پہنچایا گیا ہے۔ جس میں انہیں یقین دلایا گیا ہے کہ ٹرمپ اسرائیل کو تنازعہ دوبارہ شروع کرنے سے روکیں گے۔اور ایسا لگتا ہے کہ اس سے حماس کو یقین ہو گیا ہے کہ امریکہ اسرائیل کو یکطرفہ طور پر دوبارہ جنگ شروع کرنے سے روکنے کے لیے مداخلت کرے گا۔ تاہم حتمی معاہدہ اسرائیلی فوجیوںکے انخلا سمیت دیگرشقوں کے طے پانے پر ہی ہو سکے گا۔
https://www.youtube.com/watch?v=UwCiqX53NKA
دوحہ میں نئی امریکی تجویز پر ہو رہے بلواسطہ مزاکرات کے مجوزہ فریم ورک میں 60 دن کی جنگ بندی، انسانی امداد کی بحالی، اور یرغمالیوں اور قیدیوں کی مرحلہ وار رہائی شامل ہے۔ ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ کے لئے ایلچی، اسٹیو وِٹکوف نے اشارتاً کہاہے کہ مذاکرات حل ہونے کے قریب ہیں۔ صرف ایک بڑا مسئلہ حل ہونا باقی ہے۔
تل ابیب کا اندازہ ہے کہ غزہ میں 20 زندہ اسیران سمیت 50 یرغمال ہیں جب کہ اس کی جیلوں میں 10,400 سے زیادہ فلسطینی قید ہیں۔
مجوزہ معاہدے کے تحت اسرائیلی افواج غزہ کے کچھ علاقوں سے انخلاء کریں گی۔ جس سے انسانی امداد اور بے گھر فلسطینیوں کو گھروں کو واپس جانے کا موقع ملے گا۔
تاہم حماس تمامیرغمالیوں کو رہا کرنے سے پہلے دیرپا جنگ بندی اور مکمل اسرائیلی انخلاء کا مطالبہ کررہی ہے۔ جب کہ اسرائیل سیکیورٹی کنٹرول برقرار رکھنے اور اپنے فوجی مقاصد کی تکمیل پر اصرار کررہا ہے۔












