اسلام آباد( پاک ترک نیوز) وفاقی آئینی عدالت نے ایم پی او کے تحت پی ٹی آئی کارکنوں کی گرفتاریوں سے متعلق مقدمات کی سماعت کرنے سے پشاور ہائیکورٹ کو روک دیا، جبکہ ہائیکورٹ کے مختلف بینچز کے چیلنج کیے گئے احکامات بھی معطل کر دیے۔
چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ صوبائی حکومت نے پشاور ہائیکورٹ کے مختلف احکامات کو وفاقی آئینی عدالت میں چیلنج کیا تھا۔
سماعت کے دوران چیف جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیے کہ فریقین کو نوٹسز جاری کر رہے ہیں، دیگر فریقین بھی عدالتی حکم دیکھ کر اپنی درخواستیں دائر کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں بلدیاتی انتخابات ،صوبائی حکومت نے 20جنوری کے بعد کی تاریخ مانگ لی
ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل 245 کے تحت فوج کی تعیناتی کے بعد ہائیکورٹ مداخلت نہیں کر سکتی اور ایسی صورتحال میں آرٹیکل 199 کے تحت ہائیکورٹ کا اختیار محدود ہو جاتا ہے۔
اس پر جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ ہائیکورٹ میں روزانہ آرٹیکل 199 کے تحت متعدد مقدمات آتے ہیں، کیا ہائیکورٹ روزانہ کی بنیاد پر آنے والے مقدمات کی سماعت نہیں کرے گی؟












