واشنگٹن ( پاک ترک نیوز) امریکا کے مڈٹرم انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کو بڑا سیاسی دھچکا لگ گیا۔ ری پبلکن پارٹی سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان، دونوں میں اکثریت کھو بیٹھی۔۔۔ اور یوں ٹرمپ کے لیے صدارت کے آخری دو سال میں قانون سازی اور حکومتی فیصلے کرنا ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔لیکن سوال یہ ہے کہ اب ٹرمپ کو کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا؟سب سے پہلے بات کرتے ہیں قانون سازی کی۔ امریکی کانگریس کے دونوں ایوانوں میں ڈیموکریٹس کی اکثریت کے باعث ٹرمپ کے نئے قوانین، ٹیکس پالیسی اور بجٹ تجاویز کی منظوری مشکل ہو جائے گی۔ ڈیموکریٹس ان کے کئی منصوبوں کو روک سکتے ہیں، جبکہ حکومتی اخراجات اور قرض کی حد پر بھی سیاسی کشمکش بڑھ سکتی ہے۔
دوسرا بڑا محاذ ہوگا تحقیقات کا۔ ایوانِ نمائندگان کی کمیٹیوں کو انتظامیہ کے معاملات کی تحقیقات، سرکاری حکام کو طلب کرنے اور دستاویزات حاصل کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔ ٹرمپ کی امیگریشن پالیسی، ایران جنگ، تجارتی محصولات اور حکومتی فیصلے سخت سوالات کی زد میں آ سکتے ہیں۔تیسرا مسئلہ اہم سرکاری عہدوں پر تقرریوں کا ہوگا۔ سینیٹ کی منظوری کے بغیر ٹرمپ اپنے نامزد کئی اہم عہدیداروں اور ججوں کی تقرری نہیں کرا سکیں گے۔لیکن یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ کسی امریکی صدر کو مڈٹرم انتخابات میں ایسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا ہو۔انیس سو چورانوے میں صدر بل کلنٹن کی ڈیموکریٹک پارٹی نے کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اکثریت کھو دی۔ دو ہزار دس میں باراک اوباما کی جماعت کو ایوانِ نمائندگان میں 63 نشستوں کا نقصان ہوا، جبکہ دو ہزار اٹھارہ میں خود ٹرمپ کی ری پبلکن پارٹی نے ایوانِ نمائندگان کی 41 نشستیں گنوا دیں۔
صدر جو بائیڈن کو بھی دو ہزار بائیس میں ایوانِ نمائندگان میں اکثریت سے محروم ہونا پڑا، تاہم ڈیموکریٹس نے سینیٹ میں اپنی برتری برقرار رکھی۔ان مثالوں سے واضح ہوتا ہے کہ کانگریس میں اکثریت کھونا امریکی صدر کے لیے قانون سازی اور حکومتی امور میں بڑی رکاوٹ بن سکتا ہے۔ ڈیموکریٹس ایوانِ نمائندگان میں مواخذے کی کارروائی بھی شروع کر سکتے ہیں، تاہم صدر کو عہدے سے ہٹانے کے لیے سینیٹ میں دو تہائی اکثریت درکار ہوتی ہے۔ صرف کانگریس کا کنٹرول حاصل کرنا صدر کو ہٹانے کے لیے کافی نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: جو بھی ایران سے ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا،محسن رضائی
لیکن یاد رہے، ٹرمپ اب بھی صدر رہیں گے، ان کے پاس ویٹو کا اختیار اور کئی انتظامی فیصلے کرنے کی طاقت موجود ہے۔ ٹرمپ کے پاس صدارتی ویٹو اور انتظامی اختیارات بدستور موجود رہیں گے، اس لیے یہ کہنا درست نہیں کہ ان کی حکومت ختم ہو گئی ہے۔ البتہ اب انہیں ہر بڑے فیصلے پر کانگریس کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔












