کراچی(پاک ترک نیوز) سندھ کے وزیر بلدیات سعید غنی نے کہا ہے کہ حیدرآباد والی سڑک کی تعمیر کا معاملہ غلط رنگ اختیار کر گیا ہے۔ سڑک کی تعمیر سے پہلے بھی لوگ یہ راستہ استعمال کرتے تھے، جبکہ وہاں موجود بجلی کے پول بھی نئے نہیں ہیں۔ طویل عرصے بعد عوام کی سہولت کے لیے سڑک تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا گیا، لیکن اس معاملے کو الگ رنگ دے دیا گیا۔
سعید غنی کا کہنا تھا کہ متعلقہ سڑک ریلوے کی زمین پر تھی اور ترقیاتی کام اچھے انداز میں آگے بڑھ رہا تھا۔ ریلوے وفاقی ادارہ ہے، اس لیے دونوں اداروں کو باہمی تنازع کے بجائے بیٹھ کر مسئلہ حل کرنا چاہیے تاکہ کام جلد مکمل ہو سکے۔
انہوں نے کہا کہ کراچی جیسے بڑے شہر کی اہمیت کے پیش نظر وفاقی حکومت کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ شہر کے ساتھ تعاون کرے۔ کراچی نے ہمیشہ ملک بھر سے آنے والے لوگوں کو روزگار فراہم کیا، لیکن افسوس کہ شہر کے ساتھ تعاون کے حوالے سے شکایات سامنے آتی رہتی ہیں۔ سعید غنی نے زور دیا کہ حالیہ واقعے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کو مزید آگے نہیں بڑھانا چاہیے۔
اٹھائیسویں آئینی ترمیم کے حوالے سے سعید غنی نے کہا کہ ابھی تک ترمیم کا کوئی مسودہ ان کے سامنے نہیں آیا۔ اگر مجوزہ ترمیم بہتری اور مثبت تبدیلی کے لیے ہوئی تو وہ اس کی حمایت کریں گے۔
فرنیچر ایکسپو کے حوالے سے صوبائی وزیر نے بتایا کہ گزشتہ سال ایکسپو میں 150 اسٹالز لگائے گئے تھے، جبکہ اس سال اسٹالز کی تعداد بڑھ کر تقریباً 200 ہو گئی ہے۔ انہوں نے خوشی کا اظہار کیا کہ مقامی فرنیچر بنانے والوں کی بڑی تعداد اس نمائش میں شریک ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اقرار الحسن کی ضمانت منظور،کراچی کی عدالت کا رہائی کا حکم
سعید غنی کے مطابق پاکستانی فرنیچر کی قیمتیں عالمی منڈی کے مقابلے میں کم ہیں اور ملک میں تیار ہونے والا فرنیچر دنیا بھر میں بھیجا جاتا ہے۔ انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ ایکسپو میں آئیں اور مقامی صنعت سے فائدہ اٹھائیں۔






